87

خواتین کے بعد پہلی بار جنسی استحصال کا شکار پاکستانی مرد ماڈل بھی سامنے آگیا

پاکستانی شوبز اور فیشن انڈسٹری میں عورتوں کے بعد پہلی بار مرد بھی ’می ٹو‘ مہم کا حصہ بن گئے۔

ماڈل مجاہد رسول نے فوٹو گرافر عظیم ثانی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا ، گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

مجاہد رسول کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں جنسی ہراسانی کا کلچر رائج ہے، جہاں طاقتور مرد شخصیات کی جانب سے نوجوان مرد ماڈلز کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانا معمول کا حصہ ہے۔

اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ہیش ٹیگ “وی ٹو” یعنی “ہم بھی” کے ساتھ سلسلہ وار پوسٹس کرتے ہوئے ماڈل مجاہد رسول نے کہا کہ وہ سات، آٹھ سال سے کامیابی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جس دوران انہیں مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا رہا ہے۔

صرف علی ظفر نے مجھے ہراساں کیا، میشا شفیع کا ایک بار پھر الزام

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ان سے معنی خیز انداز میں گفتگو کی جاتی ہے، چانس دینے کے لیے شرائط پر اصرار کیا جاتا ہے، اکیلے میں ملنے کو، قابل اعتراض تصویریں شیئر کرنے کو کہا جاتا ہے۔

مجاہد رسول نے فوٹوگرافر عظیم ثانی سمیت مختلف نامعلوم شخصیات کے ساتھ اپنی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

مجاہد رسول نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والے اکیلے مرد ماڈل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں