102

حکومت کے پہلے 100 دن: تحریک انصاف کیا کرے گی کپتان کا اہم اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات 2018 کے بعد حکومت کے قیام کی صورت میں پہلے 100 روز کے لیے 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا جس میں طرزِ حکومت کی تبدیلی اولین ترجیح ہوگی۔

پی ٹی آئی کے زیرِ اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی ترجیحات میں سے طرزِ حکومت کی تبدیلی کو سرِ فہرست قرار دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے 6 نکاتی ایجنڈے میں طرز حکومت کی تبدیلی کے علاوہ معیشت کی بحالی، زرعی ترقی اور پانی کا تحفظ، سماجی خدمات میں انقلاب، پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت وغیرہ شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں مصروف تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا پہلی مرتبہ ان کی جماعت نے الیکشن کے لیے ایسی تیاری کی ہے جو پہلے نہیں کی تھی۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اگر 2013 میں ان کی جماعت کو حکومت ملتی تو ایسی تیاری ممکن نہیں تھی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹا طبقہ مجھے کیوں نکالا کہہ کر یہ بتا رہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ کتنا نیچے گر چکا ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 2 حکومتوں کے دوران 270 کھرب روپے کے قرضے لیے لیکن پاکستان کی مکمل تاریخ میں 60 کھرب روپے کے قرضے لیے گئے تھے۔سربراہ تحریک انصاف نے ان کی پارٹی کے 100 روزہ حکومتی ایجنڈے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ملک میں حکومت، صحت، تعلیم اور سیکیورٹی کے نظام کو کس طرح بہتر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سروس میں اصلاحات لائی جائیں گی اور پولیس کو میرٹ کی بنیاد پر غیر سیاسی بنایا جائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے ابتدائی 100 روز میں نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرے گی اور نچلے طبقے کو اوپر لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک پر قرضوں میں اضافہ کیا لیکن انہیں یہی نہیں معلوم کہ یہ قرضہ واپس کیسے ادا کرنا ہے۔پاکستان میں 1960 کی دہائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس دور میں پورے ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ سول سروس میں بہتری تھی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سول سروس میں بہترین لوگ آتے تھے، لیکن جب یہ سیاست کی نذر ہوئی تو اس کے بعد پاکستان میں ترقی کی رفتار سست ہوگئیچیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان میں دنیا بھر کی طرح گلوبل وارمنگ کا خطرہ ہے، ملک سے جنگلات کا تیزی سے خاتمہ ہورہا ہے اور گرمی بڑھ رہی ہے، اس کا توڑ نکالنے کے لیے درخت لگانے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں