33

قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق کردی

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بھارتی بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کی سخت مذمت کی گئی۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس میں فاٹا کے جلد خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام پر زور دیا گیا، کمیٹی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق بھی کی۔

وفاقی کابینہ نے فاٹا سے متعلق فیصلوں کو حتمی شکل دے دی

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا کے انضمام کے ساتھ انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کے قانونی امور کو بھی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے فاٹا کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی آئندہ 10سال کے لیے یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ فنڈز کسی دوسرے علاقے میں استعمال نہ ہوں۔

اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان حکومت کے مالی اختیارات اور مؤثر انتظامی اتھارٹی کی ڈیوولوشن پر بھی اتفاق کیا۔

بھارتی اشتعال انگیزی کی مذمت
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں ایل اوسی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور معصوم شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت خارجہ کے نمائندے نے علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان خطے سمیت دنیا بھر میں سلامتی و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہےگا۔

اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان، مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کی سخت مذمت بھی کی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے عالمی فورم پر پاکستان کا کشمیر اور فلسطین پر اصولی مؤقف تسلی بخش قرار دیا۔

اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اصلاحاتی تجاویز پر بریفنگ دی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اصلاحاتی تجاویز پر تفصیلی غور کیا جس کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان حکومت کے مالی اختیارات اور مؤثر انتظامی اتھارٹی کی ڈیوولوشن پراتفاق کیا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کونسلز کی مشاورتی باڈیز کو برقرار رکھنے اور گلگت بلتستان کے لیے پانچ سال کا ٹیکس ہالی ڈے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیٹی نےمؤقف اپنایا کہ ٹیکس استثنا ملنے سے گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے میں مدد ملےگی۔

نئی ویزہ پالیسی پر بریفنگ
اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے نئی ویزہ پالیسی اور اسےآزاد بنانے کے مسودے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق نئی ویزہ پالیسی میں سیاحوں اور تاجروں کیلئے ویزہ سہولت کو ترجیح دی گئی ہے۔

کمیٹی نے وزارت داخلہ کو آئندہ اجلاس میں سفارشات کو زیادہ مؤثر بناکر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

داخلی و سرحدی سیکیورٹی پر غور
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی داخلی و سرحدی سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ دہشتگردی کے واقعات پرغور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی فورسز پرحملوں کی مذمت اور کرنل سہیل عابد و دیگر اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں خطے اور مشرقی و مغربی سرحدی سیکیورٹی کی صورت حال، دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور آپریشن ردالفساد کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فلسطین کے معاملے پر ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت سےمتعلق بھی کمیٹی کواعتمادمیں لیا۔

اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق اقدامات پر بھی شرکاء کو بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں مالی ٹرانزیکشن کے فول پروف نظام کے بارے میں اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی اور اہم وفاقی وزرا نے شرکت کی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور کمیٹی کے ارکان نے وزیراعظم ہاؤس میں ہی روزہ افطار کیا، افطار کے وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تھا۔

خیال رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اس ہفتے میں بلایا جانے والا دوسرا اجلاس تھا، اس سے قبل 14 مئی کو پاک فوج کی تجویز پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق ایک متنازع بیان کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کا بیان مسترد کردیا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت 2 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے متنازع بیان کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کردیا تھا۔

تاہم نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کو ‘غلط’ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی میڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک پاکستانی انگریزی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو کو اچھالا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ غیر ریاستی عناصر ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے’؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں