85

بھارت میں ایک اور مسلمان گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندؤں نے ایک اور مسلمان کو گائے کے ذبیحہ کے الزام میں قتل کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ساتنا میں انتہا پسند ہندؤں کے ہجوم نے 2 مسلمانوں ریاض خان اور شکیل پر گائے کو ذبح کرنے کے الزام میں لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا۔

انتہا پسندوں کے تشدد کے نتیجے میں دونوں افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے ریاض خان اسپتال میں دم توڑ گیا جب کہ شکیل نامی نوجوان کومے کی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس نے واقعے کے ملوث 4 افراد کو گرفتار کرلیا ہے تاہم ہندؤں کے تشدد سے زخمی نوجوان شکیل پر گائے ذبح کرنے کا بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق دونوں ا فراد مویشیوں کے ساتھ واپسی گاؤں آرہے تھے کہ انتہاپسندوں نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ذبح شدہ بیل اور دیگر جانوروں کا کٹا ہوا گوشت بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے ہی مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک متعدد مسلمانوں کو اس الزام کے باعث قتل و تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

بھارتی ریاست آسام، مدھیہ پردیش، گجرات سمیت متعدد شہروں میں کئی مسلمان نوجوان کو اب تک انتہا پسند ہندو گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کرچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں