123

جنگلات کا تحفظ ،ریڈ پلس کا اعزاز برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے، ماہرین

اسلام آباد(نامہ نگار) پالیسی ساز ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) نے ماحولیاتی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی اور پاکستان کو RED PLUS میں شامل کئے جانے کے بعد کے ثمرات اور مضرات کے حوالے سے صحافیوں کیلئے ایک روزہ مطالعاتی دورہ اور ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ملکہ کوہسار مری اور اس کے مضافات میں سرکاری اور غیر سر کاری جنگلات کے حوالے سے ہونے والی اس ورکشاپ میں جڑواں شہروں کے صحافیوں کو ایک روز کیلئے سیر حاصل بریفینگ دی گئی ڈویژنل جنگلات آفیسرز،افتخار الحسن فاروقی، اسد علی ،SDPIکے ڈائریکٹر معظم بھٹی ،پروجیکٹ آفیسر جنیدزاہد ،رابطہ آفیسر مریم شبیر نے مطالعاتی دورہ میں شامل صحافیوںکو مفصل بریفنگ دی، اس موقع پر بریفینگ دیتے ہوئے ضلعی جنگلات آفیسرافتخار الحسن فاروقی کا کہنا تھاکہ پاکستان کو RED+کیٹگری میں شامل کئے جانے کے بعد حکومت کے ساتھ عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ ملک میں جنگلات کی کٹائی روکنے اور ان کے ثمرات سے نا صرف آگاہ رہیں بلکہ اپنا کردار ادا کریں ِ۔ ڈویژنل فارسٹ آفیسر کا کہنا تھاکہ ملک میں جنگلات کی کٹائی میں غربت کا بہت کردار ہے ۔جنگلات کی کٹائی میں علاقہ کی اعوام کی قسم پرسی کی حالت نے مجبور کیا کہ وہ جنگلات کو کاٹ کر اپنا گزارہ کریں ۔اگر حکومت غریب اعوام کامعیار زندگی بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور با عزت روزگا ر فراہم کرے تو جہاں ملک میں جنگلات کی کٹائی کو روکا جا سکتا ہے ،وہاں ملک میں ہونے والی ما حولیاتی تبدیلی میں بھی اہم کردا ر ادا کیا جا سکتاہے۔ فارسٹ آفیسر کا کہنا تھا کہ مری اور اس کے مضافات میں کا فی حد تک کمی آگئی ہے ،جس کی بنیادی وجہ یہاں کے باسیوں کا معیار زندگی بہتر ہونا ہے ۔ ڈویژنل فارسٹ آفیسراسد علی کا کہنا تھا کہ مری اور اس کے مضافات میں رہنے والے غریب اعوام کی اکثریت راولپنڈی ،اسلام آباد میں رہائش پزیر ہو چکے ہیں ،انہوں نے بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی جنگلات کی کٹائی میں امیر طبقے کا ہاتھ نہیں کیوں کہ امیر طبقے کی اکثریت جنگل نہیں کاٹ سکتی انہیں بھی غریب دیہاتی اعوام کی مدد درکار ہوتی ہے ۔اگر غریب طبقہ کو باعزت روزگا ر کی فراہمی اور معیار زندگی بہتر بنایا جائے تو وہ جنگلات کی چوری کا حصہ نہیں بنے گے ۔ اس سلسلے میں حکومت ان علاقوں کے منتخب نمائندوں کو بھی آگاہ کریں کہ اپنے علاقے کی عوام کو جنگلات کی کٹائی کے نقصانات اور نئے درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کریںاور معاشرے میں رہنے والے طبقات کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ انڈسٹریوں اور ان سے اٹھنے والے دھواں سے جوکاربن ڈائی آکسائیڈ ضائع ہوتی ہے ،یہ ان لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بجٹ میں اس نقصان کے لئے ر قم مختص کریں ۔ ایس ڈی پی آئی کے کوارڈینیٹر برائے ریڈ پلس جنید زاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی اور صرف 1,9یا زیادہ سے زیادہ 2,00فیصد جنگلات کے باوجود ریڈ پلس کا درجہ ملنا بہت بڑی خوش قسمتی ہے اور اب اسے برقرار رکھنا ہی بہت بڑی کامیابی ہے ، جنید زاہد کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس ان ممالک کو ریڈ پلس ملتا ہے جن ممالک میں جنگلات کی تعداد رقبہ کے لحاظ سے 25فیصد ہو لیکن پاکستان میں جنگلات کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے اور اب ساتویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے پاکستان کو یہ کامیابی ملی ہے جسے برقرار رکھنا بہت ضروری ہے، ڈائیریکٹر ایس ڈی پی آئی اور نامور صھافی معظم بھٹی کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک میں جنگلات کی کٹائی اور اس کے بچاو کے حوالے سے ان تھک محنت کر رہا ہے اور وہ حکومت کو جنگلات کی کٹائی کو روکنے اور ریڈ پلس میں مزید اپنا کردار اور سے ملنے والے فوائد کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، انہوں نے کہا
کہ وہ خود بھی صحافی رہے ہیں اور انکی کوشش ہو گی کے ہمارے معاشرے میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھنے والے اس ادارے کے تمام طبقہ کو اس حوالے سے آگاہی کے لئے تواتر سے ورکشاپس کا انعقاد کرے ، انہوں نے کہا کہ عوام میں ریڈ پلس کے فوائد اور جنگلات کی کٹائی کے نقصانات سے اگاہ ہونے کے لئے صھافیون کو اس کا اندازہ ہونا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے عوام میں آگہی سے قبل ملک کے عامل صھافیوں کو اس سے آگاہ کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں