141

سپورٹس بورڈ کا کرپٹ مافیا کھیلوں کی بہتری میں رکاوٹ

اسلام آباد(رپورٹ /زین ملک)پاکستان سپورٹس بورڈ میں طاقت ور کرپٹ مافیااور سرکاری گھر اور دفاتر ملک میں کھیلوں کے ترقی کے حوالے سے پلاننگ کی بجائے کھیلوں میں کرپشن روکنے والے افسران کے خلاف سازشوں کے گڑھ بن گئے، سابق ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ اور کرپٹ وزیر کے گٹھ جوڑ نے پی ایس بی میں ہونے والی کروڑوں کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے ایماندار ڈی جی عامر علی احمد اور لیاقت جمنازیم کی انکوائیری کرنے والے ڈپٹی ڈی جی غضنفر بھنڈرکو راستے سے ہٹا دیا، سابق ڈی جی نے آسٹریلیا میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں بھی سرکاری طور پر بجھوائے جانے میں رکاوٹ بننے والے افسران کو جاتی حکومت میں ہٹوانے کی حکمت عملی بنا لی، وفاقی وزیر نے جس افسر کی سفارش کی اسی کی ڈیپوٹیشن غیر قانونی ایگزیکٹیو باڈی اجلاس میں منظوری نہ دی گئی۔ یاد رہے کہ وزارت کے ایک ایماندار افسر جوائنٹ سیکریٹری عامر علی احمد کو ان کی مرضی کے بغیر مارچ میں تین ماہ کے لئے ڈی جی پی ایس بی لگایا گیا تھا ۔ ڈی جی پی ایس بی کی حیثیت سے عامر علی احمد نے کئی ہنگامی انتظامی فیصلے کئے اور لیاقت جمنازیم سمیت کئی منصوبوں میں انکوائیری کمیٹیا ں بھی بنائیں ۔ پی سی بی کے اندر ہونے والی سب سے بڑی ایک ارب کے قریب کرپشن جس میں لیاقت جمنازیم کی چھت کا نوٹس تھا پر انہوں نے وفاقی وزیر کی سفارش پر انہی کے چہیتے ڈی ڈی جی غضنفر بھنڈر کو انکوائیری افسر مقرر کیا تھا لیکن جب انکوائری افسر نے بار ہا ایکسین سے فائیلیں اور لیاقت جمنازیم کے حوالے سے ریکارڈ مانگا تو انہیں ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا جس کے بعد ڈی جی پی ایس بی عامر علی احمد نے اپنے دستخطو ں سے بھی لیٹر لکھا تو بھی کوئی ریکارڈ انکوائری افسر کو نہیں دیا گیا جس کے بعد سیاسی پناہ کے لئے گئے ہوئے سابق ڈی جی جنہیں نیب نے بھی طلب کیا ہوا ہے کو ہنگامی طور پر وطن واپس آنا پڑا اور انہوں نے آتے ہیں سازشوں کی فیکٹری دوبارہ آباد کی اور کرپٹ مافیا کے ساتھ ساز باز کر کے عامر علی احمد اور غضنفر بھنڈر سمیت اپنے خلاف انکوائری میں حصہ بننے والے افسران کو ہٹانے کے لئے حکومتی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے ڈی جی ہی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ، معلوم ہوا ہے کہ سابق ڈی جی کی باقیات نے موٹر سائیکل کرتب بازی اور ڈولفن ایکوریم جیسے شو کروانے کے لئے بھاری رقوم لی تھیں جس کے بعد سابق ڈی جی ان دونوں ایونٹ کی مخالفت کی تھی جس کے بعد کرپٹ مافیا نے اپنے چند لاکھ واپس کرنے پر سابق ڈی جی اور وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیر زادہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے افسران کو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن پاکستان سپورٹس بورڈ کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ نہ کر سکی ، پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں غیر قانونی طور پر نجی کمپنی کو ڈولفن ایکوریم کیلئے جگہ مختص کرنے کی مخالفت کرنے اور کوئی غیر قانونی کام نہ کرنے والے عامر علی احمد نے ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ کا اضافی چارج چھوڑ دیا جبکہ وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ نے حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل اپنے ٹاسک پورے کرنے کیلئے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج عارف ابراہیم کو دلوا دیا
جو آج (منگل ) کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے جوائنٹ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ عامر علی احمد کو تین ماہ کی مدت کیلئے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی اضافی ذمہ داری سونپی تھی جنہوں نے سات مارچ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا تاہم کوئی غیر قانونی کام نہ کرنے اور قوائد و ضوابط کیخلاف کسی فائل کی منظوری نہ دینے سمیت پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں غیر قانونی طور پر نجی کمپنی کو ڈولفن ایکوریم کیلئے جگہ مختص کرنے کی مخالفت کرنے کے بعد عامر علی احمد نے اپنی مدت پوری ہونے سے قبل ہی ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی کا اضافی چارج چھوڑ دیا جس پر وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ نے فوری طور پر وزارت آئی پی سی کے گریڈ 21کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری عارف ابراہیم کو پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دلوانے کیلئے اپنے اختیارات استعمال کئے اور 21مئی کو ہی عارف ابراہیم کو پاکستان سپورٹس بورڈ کی اضافی ذمہ داریاں دلوانے وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کروا دیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ کی کوشش ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ میں زیر التوا معاملات اور بالخصوص ، پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں غیر قانونی طور پر نجی کمپنی کو ڈولفن ایکوریم کیلئے جگہ الاٹ کروائی جائے اور اس حوالے سے انہوں نے نئے ڈی جی کا چارج لینے والے عارف ابراہیم کو ٹاسک بھی سونپ دیا ہے جو منگل کے روز اپنی اضافی ذمہ داریوں کا چارج لینگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں