110

تعلیم یافتہ نوجوان فلمی شعبے کو انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچا سکتے ہیں، آمنہ الیاس

لاہور: اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہی فلم کے شعبے کو انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچا سکتے ہیں۔
آمنہ الیاس نے کہا کہ دیکھا جائے توپاکستان فلم انڈسٹری کے نئے دور میں نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پربہت تیزی کے ساتھ اچھی فلمیں پروڈیوس کی ہیں، جس کی بڑی مثال یہ بھی ہے کہ آنجہانی اوم پوری اور نصیر الدین شاہ جیسے ورسٹائل فنکاروں نے پاکستان میں کام کیا اوران کے کام کرنے کی بدولت اوربھی بہت سے فنکاروں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی پاکستانی فلموں میں کام کرنا چاہتے ہیں۔
آمنہ الیاس نے کہا کہ اس صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب وہ وقت زیادہ دورنہیں جب پاکستان میں بننے والی فلمیں موضوع او رمیوزک کے ساتھ ساتھ فنکاروں کی عمدہ پرفارمنس کے باعث انٹرنیشنل مارکیٹ میں دیکھی اورپسند کی جائیں گی۔ ابھی تویہ شروعات ہے اور آگے اس میں بہتری ہی بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اس بہتری کوکامیابی میں تبدیل کرنے کیلیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوںکو یہاں کام کے زیادہ مواقعے فراہم کرنا ہونگے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی توکوئی کمی نہیں ہے۔ بس ہمیں ایکٹنگ، ڈائریکشن، رائٹنگ اوردیگرتکنیکی شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا ہوگا۔
اداکارہ نے کہا کہ ماضی میں بھی اچھا کام ہوتا رہا ہے لیکن آج کے جدید دورکی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں۔ جب تک ہم موجودہ دورکے مطابق فلمسازی نہیں کرینگے، تب تک ہمیں وہ آثاردکھائی نہیں دینگے جس کی ہم توقع رکھتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں آمنہ الیاس نے کہا کہ نوجوان فلم میکرزنے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جن موضوعات پرفلمیں بنانے کا عمل شروع کیا ہے وہ آج کے دورمیں بننے والی فلموں کی اولین ڈیمانڈ ہے اسی لیے اب پاکستان فلم انڈسٹری کے بحران میں کمی دکھائی دے رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک بھر میں فلمسازی کا سلسلہ تیز ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں