290

میاں صاحب ابھی بھی وقت ہے۔۔۔۔ممتاز قادری کا مزار زیادہ دور نہیں

میاں صاحب ابھی بھی وقت ہے۔۔۔۔ممتاز قادری کا مزار زیادہ دور نہیں
جب سے ممتاز قادری کو پھانسی ہوئی ہے اسکے کردار میاں نواز شریف ساتھی اور انکی پارٹی دن بدن زوال کا شکار ہے ؟
وزیر اعظم، وزیر اطلاعات وداخلہ وخارجہ و دفاع وقانون چیئرمین پیمرا، پی آئی او سمیت سب کیوں فارغ ہوئے؟
یہ 29فروری 2016کے روز صبح کے وقت کی کی بات ہے میں مدینہ شریف میں مسجدقبا میں موجود تھازیارت کے دوران گھر کے نمبر پر فون کیا تو میری بیٹی ے فون اٹھایا تو حیرت سے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ آج کالج نہیں گئے تو وہ مجھے حیرانگی سے پوچھتی ہے کہ آپ کو نہیں پتا کہ سب سکول کالج بازار مارکیٹیں بند ہیں کیونکہ حکومت نے ممتاز قادری کو پھانسی دے دی ہے اور میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ پاپا جی کوئی ٹی وی چینل یہ خبر نہیں دے رہا ۔اس کے بعد میں روضہ رسول پر حاضر ہوا تو اچانک کچھ لکھنے کو دل کیا تو اپنی رہائش پر چلا گیا وہاں دفتر فون کیا تو مجھے پوچھا گیا کہ تمام ٹی وی چینل اور کسی ایجنسی نے یہ خبر نہیں دی تو میں نے کہا کہ آپ خبر ضرور چلائیں کیونکہ میٹر وواچ اس شہر کا اخبار ہے اور پھانسی بھی اسی شہر میں ہوئی ہے تو اس میں کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں اور پھر خبر شہ سرخی کے ساتھ چھپی اور پھراچانک سے پتہ نہیں کیا ہو ا کہ ایک کالم لکھنے کو دل کیا ، آمد ہوئی اس کالم کا عنوان ذہن میں آیا (ممتاز قادری قاتل یا شہید ،زیادہ نہیںبس تھوڑا انتظار )پھر اس کی ذیلی میں لکھا تھا کہ جب ایک سال بعد اس کالم کو فیس بک پر شیئر کرونگا تو پتا چل چکا ہو گا کہ ممتاز قادری قاتل تھا یا شہید ۔
سب کو اچھی طرح یا د ہے کہ اس وقت تک حکومت اتنی مظبوط تھی کہ اس نے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر خبر تک نہیںچلنے دی اور میٹر و واچ سمیت جس اخبار نے بھی خبر چلائی اس کے سرکاری اشتہارات بند کر دیئے گئے لیکن پھر سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مارچ میں تدفین ہوئی اور اپریل کے شروع میں پانامہ کا ہنگامہ اتنی ذور سے پوری دنیا میں بلند ہوا کہ شریف حکومت کی مضبوط بنیادیں ہلنا شروع ہوئی اور پھر سب نے دیکھا کہ ایک مظبوط ترین حکومت دن بدن کمزور سے کمزور ترین ہوتی چلی گئی اور پھر اس مضبوط ترین حکومت کے ستون ایک ایک کر کے ہلنا شروع ہو گئے ممکن ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے تو کیا پھر کیا ہی حسین اتفاق ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی میں جس جس کا کردار تھا وہ اس حکومت سے مکھن سے بال کی طرح فارغ ہوا ان کرداروں کو اپنی ذمہ داریوں سے وزارتوں سے آہستہ آہستہ ہاتھ دھونا پڑا، سب نے دیکھا کہ جس وزیر اطلاعات نے ممتاز قادری کی پھانسی کی خبریں رکوائیں وہ پرویز رشید جو میرا محسن بھی ہے کدھر گئے ان کے زیر کنٹرول دو بندے تھے ایک ابصارعالم تھے جنہوں نے پیمرا کے ذریعہ سے ٹی وی چینل کو کنٹرول کیا اور خبر نہیں چلنے دی دوسرے پی آئی او راو تحسین احمد خان تھے جنہوں نے اخبارات کو کنٹرول کیا اور جنہوں نے خبریں دیں ان کے اشتہارات بھی بند کر دیئے وہ دونوں آج اپنے عہدوں پر قائم ہیں کیاجو مشیر خارجہ یہ پیغام لے کر آیا تھا کہ بین القوامی پریشیر ہے کہ ایک گورنر کے قاتل کو جلد از جلد پھانسی دے دی جائے وہ طارق فاطمی اپنے عہدے پرکیا قائم ہے، سب نے دیکھا جس طاقت ور ترین وزیر اعظم نے پھانسی کا حتمی فیصلہ کیا اب وہ نواز شریف اپنے عہدے پر قائم ہے اور پھر وہ طاقت ور ترین وزیر داخلہ جس نے رینجرز لگائی پوری فورس لگائی اور کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی کیا وہ چوہدری نثار علی خان اپنے عہدے پر قائم ہے، جس وزیر دفاع نے ملک کی بجائے اپنے زیر کنٹرول فورس اوراسکے ہیلی کاپٹر تک استعمال پھانسی اور جنازے کے لئے استعمال کروائے وہ خواجہ آصف منہ پر کالخ ملتے ہوئے اپنے عہدے سے فارغ نہیں ہوا ، کیا وہ وزیر قانون جس نے ممتاز قادری سے پہلے پھانسی کی سزا پانے والوں کو چھوڑ کر ممتاز قادری کی فائل کو پہئے لگائے اور جلدی جلدی میں سمریاں تیارکیں وہ زاہد حامد اپنے عہدے پر قائم ہے، پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک حسین اتفاق ہے میری رائے ہے کہ اگر میاں صاحب جو خود پیروں فقیروں کو ماننے والے ہیں ایک مرتبہ اسلام آباد کے مضافاتی گاوں بہارہ کہو کے سملی ڈیم روڈ پر ایک مرد قلندر کے مزار پر جائیں جس کی قبر وزیر اعظم ہاوس سیکٹریٹ ، پنجاب ہاوس یا میاں منیر کی رہائش سے بہت زیادہ پر رونق اور آبادہے پر ماہ مقدس میں جائیں اور پھر اگر میاں صاھب آپ کے حالات نہ بدلیں تو پھر اس فقیر جو خود بھی پیروں فقیروں مجذوبوں کی اولاد ہے کو جو مرضی کہنااس کے بعد کے نتائج کو پھر بھی آپ اسے حسن اتفاق ہی کہنا کسی کو کوئی اعتراض نہیںہو گا۔میاں صاحب یہ ضرور یاد رکھنا جس حکومت نے بین القوامی پریشر پر آسیہ ملعون کو رہا کرنے کی کوشش کی تھی اس حکومتی پارٹی اس کے اینٹ سے اینٹ بجانے والے صدر، اس وزیر اعظم اس گورنر سمیت ان سب کرداروں کا حال بھی یاد رکھنا ۔ممکن ہے یہ سب اتفاق ہے اور جذباتی باتیں ہیں لیکن اس حسن اتفاق پر غور ضرور کریں لیکن یہ میرا وہم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں