98

نگراں وزیراعظم کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوسکا

اسلام آباد: نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی پانچویں ملاقات میں بھی طے نہ ہوسکا کہ نگراں وزیراعظم کون ہوگا۔

دونوں جمعرات کوایک اور ملاقات پر رضامند ہوگئے، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کونگراں وزیراعظم کے لیے دو تین مناسب نام پیش کیے،وزیر اعظم نے کہا نام اچھے ہیں ان پر مزید غورکرناچاہیے،کوشش ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی حل ہو۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک نام پراتفاق رائے نہ ہوا توچار چار افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی جائےگی جو نام تجویز کرے گی۔

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ہوئی، جس کے دوران نگراں وزیراعظم کے ناموں پر غور کیا گیا، تاہم کسی نام پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

ملاقات کے بعد خورشید شاہ وزیراعظم ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ نواز شریف کسی سابق جج یا بیوروکریٹ کے نام پر اتفاق نہیں چاہتے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تیسری بار نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔

اس سے قبل 18 مئی کو بھی وزیراعظم کے چیمبر میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کی گئی تھی، جس کے بعد خورشید شاہ نے بتایا تھا کہ منگل (22 مئی) کو ایک اور ملاقات کے بعد نگراں وزیراعظم کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔

نگراں وزیراعظم کے لیے مجوزہ نام

ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم کے لیے حکومت کے تجویز کردہ 3 ناموں میں جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی طرف سے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے، تاہم تحریک انصاف نے ذکاء اشرف کا نام مسترد کردیا۔

نگراں وزیراعظم کے لیے مختلف نام سامنے آگئے

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کا نام تجویز کیا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور معروف صنعت کار عبدالرزاق داؤد کے نام بھی سامنے آچکے ہیں۔

تاہم امریکا میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نگراں وزیر اعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئیں اور حکومت اور اپوزیشن کے تجویز کردہ ناموں میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت کا اختتام اور نگراں وزیراعظم کا انتخاب

موجودہ حکومت کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنھالے گی۔

مروجہ طریقہ کار کے مطابق نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے نام سامنے آتے ہیں اور کسی ایک نام پر اتفاق ہونے پر اسے نگراں وزیراعظم نامزد کردیا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نگراں وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور اگر کمیٹی بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک موزوں شخص کا انتخاب بطور نگراں وزیراعظم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں