84

سعودیہ میں رمضان میں برتنوں کو ’دھونی‘ دینے کا رواج

دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی سعودی عرب میں رہنے والوں کی اکثریت کے گھروں سے ’’مصطگی‘‘ کی دھونی کی مہک اٹھنے لگتی ہے۔

’’مصطگی‘‘ ایک گوند نما مواد ہوتا ہے جو MASTIC کے درخت کی جڑوں سے نکالا جاتا ہے، اقسام اور کوالٹی کے لحاظ سے اس کے کئی رنگ ہوتے ہیں جن میں سفید، زرد اور سُرمئی بھی شامل ہیں۔

مصطگی کو ضرورت کے مطابق مختلف استعمال میں لایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے خوشبودار دُھونی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو کہیں یہ عطر اور سنگھار و آرائش کے سامان کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

رمضان المبارک کے موقع پر سعودی خواتین گھر کے برتنوں بالخصوص ’’گلاسوں‘‘کو مصطگی کی دُھونی سے مہکاتی ہیں۔

سعودی سرزمین کے رہنے والے طویل عرصے سے نسل در نسل رمضان کے اس رواج پر کاربند ہیں۔

برتنوں کو مصطگی کی دھونی دینے کا طریقہ کار بھی کچھ مختلف ہے جس میں پہلے کوئلے کا ٹکڑا جلا کر اس پر مصطگی کے دانے رکھ دیئے جاتے ہیں اور پھر پانی کے گلاس، کپوں، فلاسکوں اور ڈشوں کو تقریباً 10 منٹ تک دُھونی دی جاتی ہے، اس طرح ان میں دُھونی کی مہک برقرار رہتی ہے۔

تاریخی لحاظ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس رواج کا آغاز مدینہ منورہ سے ہوا جو وہاں سے ہوتا ہوا دیگر شہروں تک پھیل گیا۔

اس حوالے سے عرب خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے مدینہ منورہ کی معروف شخصیت وائل کردی نے بتایا کہ یہ رواج جس ضرورت کے تحت سامنے آیا تھا وہ اب ختم ہو چکی ہے تاہم مدینے کے رہنے والوں نے ابھی تک اس کو رمضان کے رواج کے طور پر محفوظ رکھا ہوا ہے۔

وائل کردی کے مطابق زمانہ قدیم میں پانی کو مٹی کی مصنوعات میں محفوظ کیا جاتا تھا، بجلی کی عدم فراہمی کے سبب لوگ اس کو مصطگی کی دُھونی دیتے تھے تا کہ یہ ٹھنڈا رہے اور ساتھ ہی اس میں خوشبو بھی باقی رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مصطگی کی دُھونی کے کئی فائدے ہیں، یہ برتنوں کو ناپسندیدہ بو سے پاک کرتی ہے اور کیڑوں بالخصوص، مچھروں اور جراثیم کو دُور بھگاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض شہروں میں یہ رواج باقی نہیں رہا تاہم یہ ممکن نہیں کہ رمضان کی آمد پر لوگوں کی بڑی تعداد مصطگی کی دھونی دیا ہوا پانی نہ پئیں۔

وائل کردی کے مطابق مصطگی بہترین خوشبو کے علاوہ طبی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہوتا ہے، بڑی عمر کے افراد نہ صرف اپنے دسترخوانوں پر اسے دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اس رمضانی رواج کو اپنی آئندہ نسل تک منتقل کرنے کی بھی خواہش رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں