86

آئینی مدت پوری ہونے کے بعد وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی ختم

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد رات 12 بجتے ختم ہوگئیں۔

قومی اسمبلی تحلیل ہوتے ہی وزیراعظم سبکدوش جبکہ وفاقی کابینہ بھی ختم ہوگئی۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسری منتخب جمہوری حکومت ہے جس نے اپنی آئینی مدت مکمل کی، اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2013 میں اپنی 5 سال کی آئینی مدت پوری کی تھی ۔

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نےاپنے اقتدار کے آخری روز کمانڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کیا، آخری ہفتہ اپنی وزارتوں کی کارکردگی سےآگاہ کرنے میں گزارا۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کاآخری اجلاس بلا کر کابینہ ارکان سے اظہار تہنیت کیا اور ان کی سربراہی میں بہتر کارکردگی کی کوششوں کو سراہا۔

شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم آفس کے افسران اور عملے سےبالمشافہ الوداعی ملاقاتیں بھی کیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 10ماہ پہلے وزیراعظم کاعہدہ سنبھالنے سے اب تک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہاؤس میں مقیم نہیں رہے، وہ وزیراعظم کاعہدہ سنبھالنے سے اب تک ایف سیون میں اپنی ذاتی رہائش گاہ مقیم ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس میں چیف ایگزیکٹو آفس سے روانگی کے موقع پر مسلح افواج کے دستے سلامی دیں گے۔

نگراں وزیراعظم سابق چیف جسٹس ناصرالملک آج دن 12 بجے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، ایوان صدر میں ہونے والی پروقار تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

تقریب میں سابق وزیراعظم ،سابق کابینہ وقومی اسمبلی ارکان، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان، ججز اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

سابق چیف جسٹس ناصرالملک وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کےبعد اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب وفاقی حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے، اس سے قبل 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی تھی۔

نااہل اور کرپٹ حکومت سے نجات پر قوم شکرانے کے نوافل پڑھے، عمران خان

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بطور 18ویں منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے 10 ماہ خدمات انجام دیں، ان سے پہلے اس عہدے پر نواز شریف نے 4 سال ایک ماہ اور 23 دن خدمات انجام دیں جنہیں اعلیٰ عدالت نے پاناما کیس میں نااہل قرار دیا تھا۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کی 2008 سے 2013 تک حکومت میں ملک کے 16ویں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس عہدے پر 4 سال 2 ماہ اور 25 دن فرائض انجام دیتے رہے اور انہیں بھی اعلیٰ عدالت نے نااہل قرار دیا۔

یوسف رضا گیلانی کے بعد راجا پرویز اشرف نے 17ویں وزیراعظم کی حیثیت سے 9 ماہ اور دو دن فرائض انجام دیے اور 5 سالہ دور حکومت کی مدت پوری کی۔

صوبوں کی صورتحال
وفاقی حکومت کی طرح صوبائی حکومتیں بھی ختم ہوگئیں تاہم چاروں صوبائی نگراں وزرائے اعلیٰ کے ناموں کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔

تحریک انصاف نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ڈاکٹرحسن عسکری اور ناصر درانی کے نام دے دیے تاہم ناصر درانی نے ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔

سندھ میں وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں بھی حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اتفاق رائے نہ ہوا تو نگراں وزرائے اعلیٰ کا معاملہ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھیجا جائےگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ کابینہ تحلیل ہوتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب سے اضافی دو گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔

کابینہ تحلیل ہوتے ہی شہبازشریف، رانا ثناء اور دیگر سے اضافی گاڑیاں واپس لینے کا حکم

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکم دیا ہے کہ رانا ثناء اللہ اور دیگر سے بھی بُلٹ پروف گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں سرکاری بُلٹ پروف گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر کسی کو ضرورت ہے تو اپنی جیب سے خرید لے۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزراء اور سرکاری افسروں کے بلااستحقاق لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق انتخابات 25 جولائی 2018 کو ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ملک آئین و قانون کے مطابق انتخابات کی طرف جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات 25 جولائی 2018 کو ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ریٹرننگ آفیسرز کی جانب سے یکم جون کو پبلک نوٹس جاری کیا جائے گا اور امیدوار کاغذات نامزدگی 2 جون سے 6 جون تک جمع کرا سکیں گے۔

انتخابی شیڈول کے مطابق 7 جون کو امیدواروں کی فہرست آویزاں کی جائے گی اور 14 جون 2018 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی آخری تاریخ ہو گی۔

نامزد نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کل عہدے کا حلف اٹھائیں گے

کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 19 جون تک دائر ہو سکیں گی۔

انتخابی شیڈول کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیلوں پر فیصلے کی آخری تاریخ 26 جون ہو گی اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 27 جون کو لگائی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 28 جون مقرر کی گئی ہے اور امیدواروں کی حتمی فہرست بھی 28 جون کو ہی لگائی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کو انتخابی نشانات 29 جون کو الاٹ ہوں گے اور انتخابات کے لیے پولنگ 25 جولائی کو ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں