60

خواجہ آصف کی نااہلی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف کو نا اہل قرار دینے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی جانب سے نااہلی کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی اور دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بعد ازاں 3 رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ آصف کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد خواجہ آصف دوبارہ انتخابات میں شرکت کے اہل ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ’خواجہ آصف انتخابات میں شرکت کرسکیں گے‘۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ آصف کی جانب سے دائر اپیل پر مختصر فیصلہ سنایا گیا جبکہ اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

اس سے قبل عثمان ڈار کے وکیل نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ خواجہ آصف کی کابینہ ممبر کی مدت کا ریکارڈ جمع کروایا ہے اور خواجہ آصف کا حلف بطور وزیر دیکھ لیا جائے۔

وکیل نے کہا کہ حلف میں کہا گیا کہ وہ ذاتی مفاد کو خاطر میں نہ لائیں گے جبکہ وہ وزیر ہوتے ہوئے بیرون ملک ملازم بھی رہے۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر کوئی وزیر پاکستان میں لیگل ایڈوائز ہو کیا یہ بھی مفاد کا ٹکراؤ ہوگا، ٹرمپ کی مثال دیکھ لیں، اس کی بیٹی اور داماد بزنس کرتے ہیں اور ٹرمپ صدارت اور کاروبار دونوں کر رہے ہیں۔

اس پر وکیل عثمان سکندر بشیر نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر خارجہ ہوتے ہوئے کیسے کسی غیر ملکی کمپنی کے ملازم رہ سکتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ آصف نے 2012 میں کاروبار سے متعلق بتایا ہے۔

وکیل عثمان ڈار نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف 2012 کے علاوہ 2013، 2014 اور 2015 تک کام کرتے رہے اور اس دوران وہ غیر ملکی کمپنی سے تنخواہیں وصول کرتے رہے۔

جس کے بعد خواجہ آصف کے وکیل مینر اے ملک نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ کاغذات نامزدگی مجھے کہاں کہتے ہیں کہ میں اپنی تنخواہ الگ سے ظاہر کروں؟ سیکشن 42 اے کی خلاف ورزی کہاں ہوئی ہے؟ جبکہ میں نے تنخواہ خرچ بھی کی ہے۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے 2013 کے معاہدے کے مطابق آپ 9000 درہم تنخواہ لے رہے تھے؟ جس پر خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ سالانہ ڈکلیئریشن اور کاغذات نامزدگی کا ڈکلیئریشن مختلف ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ ان کو تنخواہ ملتی رہی، آپ کہتے ہیں کہ رقم ریسٹورنٹ بھیجنے کی وجہ سے آئی، جس پر خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں جو پوچھا گیا وہ لکھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت سے آپ سے آمدن سے متعلق پوچھ سکتی ہے، اگر میری آمدن ذرائع سے زیادہ ہے تو الیکشن کمیشن تحقیق کرسکتا ہے، ذرائع سے زیادہ آمدن کی چھان بین کا معاملہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اراکین پارلیمنٹ پر نااہلی کی تلوار ایسے نہیں لٹکنی چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب آپ 33 ہزار درہم سے زیادہ کما رہے تھے تو اس سے متعلق کیا کہیں گے، جس پر خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ میری فیملی کے ایک ممبر کو کینسر تھا اور مجھے رقم کی ضرورت تھی، ہائی کورٹ نے 42 اے کے بیان میں تنخواہ سے متعلق درستگی نہ ہونے پر نااہل کیا جبکہ کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر نااہلی نہیں ہوئی۔

خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ یہ کیس 62 ون ایف میں نہیں آتا، مجھے تاحیات نااہل کیا گیا، عوامی عہدے سے زندگی بھر کے لیے محروم ہوگیا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک شخص کے پاس حکومتی عہدہ تھا اور وہ اپنی آمدن اور تنخواہ چھپاتا رہا ، کیا یہ بددیانتی نہیں ہے، آپ ٹیکس دے رہے ہیں لیکن بیرونی آمدن چھپا رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے کہا کہ یہ آپ کی آمدن تھی اور خرچ ہو گئی، کیا آپ نے آمدن اور اس کے اخراجات سے متعلق الیکشن کو آگاہ کیا؟

اس موقع پر خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نوٹس کرتا تو میں بتاتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے اثاثے نہیں بتائے اور تنخواہ بھی چھپائی۔

خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس کمپنی سے تنخواہ ملتی تھی اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے خواجہ آصف کی جانب سے نااہلی کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کسی نتیجے پر پہنچی تو آج ہی فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
خیال رہے کہ 26 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی خواجہ آصف کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خواجہ آصف نے 2013 میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 110 پر پونے والے انتخابات کے لیے اہل نہیں ہیں کیونکہ وہ آئین کے ارٹیکل 62(ون)(ایف) کے تحت مقرر کردہ شرائط پر پورا نہیں اترتے، اسی لیے انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عدالت کو منتحب نمائندوں کو نااہل کرنے کے لیے عدالتی اختیارات کا استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر ہی حل کرنے چاہئیں۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں آنے سے دیگر سائیلین کا وقت ضائع ہوتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہٹائے جانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 99 (ون) (ایف) کے تحت خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا ہے، جس کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم کر دی گئی۔

الیکشن کمیشن نے 2013 کے عام انتخابات میں خواجہ آصف کی کامیابی کا نوٹی فکیشن بھی معطل کر دیا تھا۔

نا اہلی فیصلے کے خلاف خواجہ آصف کی اپیل
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد 2 مئی 2018 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنی نااہلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سابق وزیر خارجہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ملکی اور متحدہ عرب امارات کے قوانین کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے رویے کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے جبکہ درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے حقائق بھی چھپائے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں مزید کہا گیا کہ کاغذات نامزدگی میں 68 لاکھ روپے کی بیرونی آمدن کو ظاہر کیا گیا اور اس میں تنخواہ بھی شامل تھی۔

خواجہ آصف نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے قیاس آرائیوں پر مبنی فیصلہ دیا کیونکہ 2017 میں رٹ دائر ہوئی جبکہ 2015 میں اقامہ ظاہر کیا گیا اور خود سے اکاؤنٹ ظاہر کرنے کے عمل کو بدنیتی نہیں کہا جاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں