55

وفاقی کابینہ کا آخری اجلاس میں اصغرخان کیس پر ہدایات جاری کرنے سے گریز

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اپنے آخری اجلاس میں اصغر خان کیس پر عملدرآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں کوئی بھی حتمی حکم یا ہدایت دینے سے گریز کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدلیہ، پراسیکیوشن اور انویسٹی گیشن کے ادارے اپنی کارروائی میں آزاد ہیں اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز اصغر خان کیس پر کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو کل شام تک کی مہلت دی تھی۔

اعلیٰ سطح ذرائع نے نمائندہ جیو نیوز کو کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس میں 19 نکاتی ایجنڈا زیرغور آیا، مگر اس میں اصغر خان کیس سے متعلقہ معاملہ شامل نہیں تھا تاہم اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی جانب سے اس معاملے کو ایڈیشنل آئٹم کے طور پر ڈسکس کیا گیا۔

اصغرخان کیس: کابینہ اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس برہم، حکومت کو آج شام تک کی مہلت

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وفاقی کابینہ کو اصغر خان کیس پر عدالتی احکامات پر بریفنگ دی اور مشورہ دیا کہ ‘سپریم کورٹ کی ہدایات پر قانون کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو کارروائی کا کہہ دیں’۔

اٹارنی جنرل کے مشورے پر وفاقی کابینہ نے اصغر خان کیس پر سپریم کورٹ کے احکامات سے متعلق کسی بھی کارروائی یا احکامات سے احتراز کردیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘کیا ایف آئی اے پہلے پوچھ کر گرفتاریاں اور کارروائیاں کرتی ہے’؟ جس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ ‘پھر آیندہ حکومت پر معاملہ دیکھنے کی ذمہ داری ڈال دیں’۔

اٹارنی جنرل کے مشورے پر وزیراعظم بولے کہ ‘میں ایسا کیوں کروں گا، اس معاملے سے کابینہ کا کیا تعلق ہے؟’

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ‘عدالتیں، پراسیکیوشن اور انویسٹی گیشن کے ادارے اپنی کارروائی میں آزاد ہیں اور کر بھی رہے ہیں، لہذا متعلقہ ادارے قانون کے مطابق جو کارروائی بنتی ہے، وہی کریں’۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ، ‘یہ معاملہ کابینہ سے متعلق نہیں اور نہ ہی میں اس کو آئندہ حکومت پر چھوڑنے کی بات کرسکتا ہوں ‘۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنے اور نکالنے کے اختیار کے معاملے پر قائمہ کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں، جس پر کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی بجائے ای سی ایل میں نام ڈالنے یا نکالنے کا اختیار صرف ایک مرتبہ وفاقی وزیر داخلہ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا اور طے کیا گیا کہ ای سی ایل کمیٹی کی سفارشات دیکھ کر آئندہ حکومت خود فیصلے کرے گی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وفاقی دارالحکومت میں زمینوں پر قبضے، ناجائز تجاوزات اور سرکاری املاک پر قائم عمارتوں کے معاملے پر وفاقی وزیر کیڈ کی جانب سے پیش کردہ ایک دفعہ ایمنسٹی دینے کی تجویز سختی سے مسترد کردی اور طے کیا کہ حکومت غیر قانونی کاموں کو تحفظ نہیں دے سکتی۔

1990ء کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔

اس حوالے سے ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔

خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔

پیسے لینے والوں میں غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

تاہم اس حوالے سے وفاقی کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو کل شام تک کی مہلت دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں