95

مسلسل 100 سال تک توانائی فراہم کرنے والی ’ایٹمی‘ بیٹری

ماسکو: روسی انجینئروں نے مسلسل 100 سال تک کارآمد رہنے والی ایٹمی بیٹری تیار کی ہے جو ہمارے بہت سے مسائل حل کرسکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تابکار بیٹری کو دنیا استعمال کرنا چاہے گی؟

ماسکو میں واقع ٹیکنالوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف سپر ہارڈ اینڈ ناول کاربن مٹیریلز کے ماہرین نے ایک تابکار عنصر سے یہ بیٹری تیار کی ہے جس میں قدرتی طور پر بی ٹا انحطاط (ڈیکے) ہوتا ہے اور اس عمل سے وولٹیج (پوٹینشل) پیدا ہوتا ہے، اسی بنا پر یہ بی ٹا وولٹائک بیٹری کہلاتی ہے۔

بی ٹا وولٹائک بیٹریاں ایسے کاموں کے لیے مناسب ہیں جہاں چارجنگ محال ہوتی ہے جن میں انسانی جسم کے پیس میکر اور چھوٹے سیٹلائٹس شامل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ان کا استعمال مکمل محفوظ رہے گا یا نہیں؟

ان بیٹریوں کی تیاری میں روسی ماہرین نے نکل 63 کے آئسوٹوپ کو خاص سیمی کنڈکٹر ڈائیوڈز کے درمیان رکھا ہے جنہیں شاٹکی بیریئر کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بیریئر یا رکاوٹ اکثر کرنٹ کو یک سمتی رکھتی ہے یعنی آلٹرنیٹنگ کرنٹ کو ڈائریکٹ کرنٹ میں تبدیل کردیتی ہے۔

ان میں سے ہر تہہ کی موٹائی صرف دو مائیکرو میٹر ہے اور یہ اندر موجود نکل آئسوٹوپ کے ہر گرام سے بھرپور وولٹیج حاصل کرتی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس طرح 3300 ملی واٹ گھنٹے بجلی فی گرام حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس طرح بیٹری میں گویا بجلی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

یہ بیٹری مسلسل 100 برس تک بجلی پیدا کرتی رہے گی اور اس طرح مریخ سے آگے کے خلائی مشن کےلیے بھی نہایت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں