218

ہر شاخ پر جج بیٹھا ہے۔۔پہلی مرتبہ ملک میں جج راج۔۔اتفاق؟

ہر شاخ پر جج بیٹھا ہے۔۔پہلی مرتبہ ملک میں جج راج۔۔اتفاق؟

سپریم کورٹ کے بعد چیئرمین الیکشن کمیشن ونیب ،وزارت عظمی اور اب الیکشن بھی آر او یعنی جج کراینگے

تین نومبر 2007کے بعدججز کامسلسل عروج،دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں جج راج کی پہلی مثال

پرانی مثال ہے کہ دنیا میں جھگڑوں کی بنیاد کے لئے تین (ز)کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جسے زن، زر ،اور زمین کہا جاتا ہے، اسی طرح انگریزی کے تین حروف (J)یعنی (ج)کا بھی بہت اہم رول شمار کیا جاتا ہے جو جج جرنلسٹ اور جرنیل سے شروع ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میںاقتدار کے حوالے سے پہلی مرتبہ (ز)سے زن اور(ج)سے جج کا کردار بہت اہمیت اختیار کرتے کرتے جج راج تک پہنچ گیا ہے،راوی کہتے ہیں نواب آف کالا باغ کی ایک خوبرونواسی کے سابق آمر صدر سے بہت اچھے تعلقات تھے اور اس آمر کے سابق چیف جسٹس کیساتھ دیرینہ تعلقات کے علاوہ آپس میںہم پیالا بھی تھے ، سب کو علم ہے کہ اس چیف نے سابق صدر کو جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا اتنا ریلیف بھی دیا تھا اور اسی کے ذریعہ نااہل وزیر اعظم کو طیارہ سازش کیس میںسزا بھی دلوائی تھی، کہانی سنانے والے کہتے ہیں کہ سابق آمر نے اس وقت کی رکن اسمبلی کو سابق چیف جسٹس کے پاس بجھوایا کہ وہ اس کی داد رسی کرے ، سابق چیف جسٹس نے رکن قومی اسمبلی اور نااہل چیئرمین ضلع کونسل کو اپنے سٹاف (جو بعد میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے اور آج تک تحقیق بھی نہیںہوئی)کے فلیٹ پر ملاقات کا وقت دیا ،اس خفیہ مقام پر ہونے والی ملاقات کے بعد موصوفہ کو نہ صرف اس کیس میں ریلیف ملا بلکہ80 لاکھ کا دوسرے فریق کو جرمانہ بھی کر دیا گیا، ابھی اس کیس کے فیصلہ کو چند دن ہی گزرے تھے تو خفیہ ایجنسی والوں نے اس وقت کے طاقت ور ترین آمر کو اطلاع دی کہ آپ کی دوست نے چیف جسٹس کے ساتھ ایک فلیٹ پر خفیہ ملاقات کی ہے اور جس پر سابق آمر نے اپنی دوست کو بلایا تو سابق رکن اسمبلی نے اقرار کیا کہ جی ایسے ہی ہوا ہے لیکن آپ کے دوست نے مجھے جس جگہ کا وقت دیا تھا وہاں پر میں اکیلی پر بھی نہیں مار سکتی تھی جس پر کہتے ہیں سابق آمرغصے میں آگئے اور انہوں نے سابق چیف جسٹس کو اپنے گھر بلایا اور ان سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی وہاںموجود تھے جیسے ہی سابق آمر کمرے سے یہ کہ کر رخصت ہوئے کہ اس سے ابھی استعفیٰ لو اور طے شدہ منصوبے کے تحت اس وقت کے چیئرمین نیب کو نیا چیف جسٹس بھی بنانے کی تیاری تھی ، راوی کہتے ہیں کہ جیسے ہی سابق آمر کمرے سے گئے تو اس وقت کے خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے سابق چیف کو ڈٹ جانے کا کہہ دیا کہ بس آپ نے اب ڈٹ جانا ہے کیونکہ موصوف ستمبر اکتوبر میں امریکا یاترہ کے طویل ترین دورے میں امریکی حکام سے یہ طے کر آئے تھے کہ وہ سابق آمر کو اب زیادہ دیر تک اقتدار میں نہیں رہنے دینگے، کیونکہ امریکا یہ سمجھ رہا تھا کہ سابق جلا وطن آمر ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہے ہیں اس لئے انہیں اب راستے سے ہٹ جانا چاہئے جس کے بعد سب انتظار میں تھے کہ کب سابق آمر کوئی غلطی کریں اور پھر وہ اپنا کام دکھائیں پھر ایسے ہی ہوا کہ عدلیہ بحالی کی ایسی تحریک چلی کہ سب کو بہا کر لے گئی اور پھر ایک زن سے شروع ہونیوالے جھگڑے نے اتنا طول پکڑا ہے کہ وہ تین میں سے ایک ج کے مکمل اقتدار کا باعث بن گیا اور پھر سب نے دیکھا کہ کیسے تحریک چلی اور پھر جب جسٹس ڈوگر نے میاں برادران کو نااہل قرار دیا تو پھر ایک لانگ مارچ سے لے کر جب عدلیہ بحال ہوئی تو سب سے پہلے جو کیس سنا گیا وہ کیس شریف برادران کو بحال کرنے کا تھا اور اس کیس کی آج تک دوبارہ سماعت نہیںہوئی، پھر راوی کہتے ہیں کہ سابق نااہل وزیر اعظم نے اس چیف سے وعدہ کیا کہ آپ ملک کے اگلے صدر ہونگے ہم وقتی طور پر ایک صدر بنا لیتے ہیں اور آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال کی مدت پوری ہو گی تو پھر ہم آپ کو صدر بنا لینگے پھر کہتے ہیں کہ ابھی دوسالہ مدت کو چھ ماہ رہتے تھے کہ شریف برادران نے اس چیف جسٹس کا فون تک سننا بند کر دیا جس کے بعد پانامہ کیس آ گیا پھر اسی چیف نے اپنا فون نہ سننے کا بدلہ لینے کی ٹھان لی اور پھر کس طرح حکمرانوں کے اپنے چیف جسٹس سے راستے جدا ہوئے یہ ایک لمبی کہانی ہے جو اگلی تحریر میں لکھنے کی کوشش کرونگا ابھی صرف اتنا کہوں گا کہ زن کی لڑائی سے جہاں ایک صدر کی رخصتی ہوئی وہاں سے جنم لینے والی تحریک ملک میںجج راج کا بھی باعث بن چکی ہے جس میں بہت ساری چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ ملتی گئیں۔ جیسے ایک وقت میں وہی جج جو آمروں اور چمک کی وجہ سے ٹیلی فونوں پر اور چٹوں پر فیصلے دیتے تھے، نظریہ ضرورت کو ایجاد کرتے تھے، عدالتی قتل کیا کرتے تھے وہ اتنے طاقت ور ہوئے کہ اب اس ملک میں وزارت عظمیٰ ، احتساب اور الیکشن کمیشن بھی ان کے رحم و کرم پر ہے جبکہ ملک کی تمام عدالتیں اب ملک میں الیکشن بھی کروائینگی اور بطور سابق صدر آر او بھی ان کے لگائے ہونگے اب تو بس یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہر شاخ پر جج بیٹھا ہے انجام گلستان خدا جانے۔۔۔
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں