444

دو سزا یافتہ مجرم ممتاز قادری اور کیپٹن صفدر۔۔۔ میڈیا اور پیمرا کا کردار

دو سزا یافتہ مجرم ممتاز قادری اور کیپٹن صفدر۔۔۔ میڈیا اور پیمرا کا کردار
ممتاز قادری کے جنازے کو کوریج اس لئے نہیں کرنے دی گئی کہ وہ عدالت سے سزا یافتہ تھا
میڈیا نے سزا یافتہ سابق فوجی کی گرفتاری کی کوریج اس طرح کی جیسے وہ نواز شریف نہیں ان کا جوائی تھا
پاکستان میں اشتہاروں کے غلام میڈیانے ویسے تو آزادی اظہار کی بیڑا اٹھایا ہوا ہے لیکن حقیقت میںیہ سب سے غلام میڈیا ہے جو ایک ٹیلی فون کال اور ایک بیس تین کے اشتہار سے اپنی آزادی کو فرنٹ سے بیک پر لے جاتا ہے ، جب کوئی اشتہار دے یا لفافہ دے تو کرپٹ سے کرپٹ لوگ فرشتے جبکہ اگر کوئی اشتہار یا لفافہ نہ دے تو بڑے سے بڑے نیک شخص کی سرعام شلوار اتار اور اسکی عزت تار تار کر دی جاتی ہے،اس میڈیا، صحافت کو جسے پیغمبروںکا پیشہ قرار دیا جاتا تھا میں جب سے ٹیکس چور ، قبضہ مافیہ ،تعلیمی ڈگری مافیہ جیسے لوگوں کی انٹری ہوئی ہے جب سے اس مقدم پیشہ میں ان گندے لوگوں نے قدم رکھا ہے اس وقت سے میڈیا بھی سیاست کی طرح اب ایک گالی کی سی صورت اختیار کر گیا ہے اس کی صرف دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جب 29فروری 2018کوممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو حکومت نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو اتنے اشتہارات دئے کہ ان چینلز نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازے کی کوریج کو بلیک آوٹ کیا جیسے پنڈی میں انسانوں کا جو سمندر تھا انہیں نظر ہی نہیں آیا اور پھر پیمرا نے یہ ایڈوائس جاری کی چونکہ ممتاز قادری عدالتوں سے سزا یافتہ ہے اس لیے اس جنازے کی کوریج نہ کی جائے ، پھر اسی بے بنیاد بغیر لکھی ایڈوائس کو بنیاد بنا کر اس اشتہاروں کے غلام میڈیا نے نہ ممتاز قادری کے جنازے کو بلیک آوٹ کیا بلکہ ساتھ ہی پوری دنیا سے لعن طعن بھی سنی اور اپنی عزت کو بھی خاک میں ملتے دیکھتے رہے اور سوشل میڈیا نے اس میڈیا کی جو درگت بنائی وہ بھی سب کے سامنے تھی پھر 8جولائی کو دنیا نے دیکھا کہ ایک نیب سے کرپشن اور ناجائز اثاثے بنانے کے الزام میں سزا یافتہ سابق سزا یافتہ مجرم جن کی پہچان ہی ایک غیر اخلاقی حرکت اور بعد میں مریم نواز سے شادی ہے نے پہلے تو سزا ملنے کے بعد جمعہ اور ہفتہ کا روز روپوشی میں گزارا پھر سابق فوجی نے طاقت کے نشے میں سیاسی بازی گری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنڈی والوں کے سامنے سرعام دنددناتا رہا اور قانون کی دھجیاں اڑاتا رہا اور پھر اپنی سزا کو ایسے شو کرواتا رہا جیسے وہ اس نے کوئی بہت بڑا معرکا سر کیا ہیاور پھر ہمارا خود ساختہ اشتہاروں کے غلام میڈیا نے سارا دن ایک قومی سزا یافتہ مجرم کی کوریج کرتا رہا جیسے وہ نواز شریف کا نہیں میڈیا کا جوائی تھا ، ایک سزا یافتہ شخص کی پھانسی کی خبر اور کوریج تو اس میڈیا کو نظر نہیں آتی ، اس جنازے میں لاکھوں لوگ شریک تھے وہاں پر تو اس میڈیا کا ضمیر نہیں جاگا لیکن چند سو یا ہزار سیاسی کارکنوں کو میڈیا عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کہتا رہا اور ہر طرف سر ہی سر کہتا رہا اور سارا دن اس میڈیا نے ایک مجرم کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کرتے رہے ایسی صورتحال میں میڈیا کو اپنے گریبان میں جھانکنا بہت ضروری ہے کہ اس نے اپنی عزت بنانی ہے یا مزید عزت گنوانی ہے اگر ہم اسی طرح مجرموں کو ہیرو بناتے رہے تو وہ دن دو ر نہیں جب اس میڈیا کے خلاف بھی لوگ اسی قسم کے جلوس نکال رہے ہونگے جیسے آج صحافت کو جلوس نکلا یا جیسا جلوس اس میڈیا نے ممتاز قادری کے جنازے کی کوریج نہ کر کے نکالا تھا ۔ میڈیا کو دوہرا معیار ترک کرنا ہو گا اور ہمت کرنا ہو گی جیسے میٹر وواچ نے ممتاز قادری کی خبر نا روک کر ہمت کی تھی جس پر اسے آج تک سرکاری اشتہاروں کی بندش کا سامنا کرنا پڑا یہ بات سوچنی ہو گی کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے ان ان داتاوں کے ہاتھ نہیں ۔۔ جو کل اشتہار دے کر خبریں کوریج رکواتے تھے آج اشتہار دے کے کوریج خبریں لگواتے ہیں ان کا حال بھی دیکھو کہ وہ کس عذاب سے گزر رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں