498

ایک اور ڈیل۔۔۔۔میاں صاحب ممتاز قادری والی جیل میں

ایک اور ڈیل۔۔۔۔میاں صاحب ممتاز قادری والی جیل میں
ڈیل کے مطابق نواز شریف بغیر کسی مزاحمت کے گرفتاری دینگے، پیر کے روز سز ا معطل ہو جائے گی
مکافات عمل 29فروری 2016جس دن ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی اس وقت کا حکمران بھی اسی جگہ پہنچ گیا
کہتے ہیں کہ ایک گاوں میں دو افراد کا آپس میں تصادم ہوتا ہے تصادم کے دوران ان میں سے ایک شخص مارا جاتا ہے جس پر سارا گاوں مشتعل ہو کر قاتل کے گھر پہنچ جاتا ہے اور قاتل کو مارنے اور اس کے گھر کو جلانے کے درپے ہوتے ہیں اس دوران بڑی مشکل سے پولیس آکر حالات کنٹرول کرتے ہوئے قاتل کو پکڑ کر لے جاتے ہیں مشتعل ہجوم تھانے پہنچتا ہے قاتل کے خلاف بھر پور گواہی ہوتی ہے مختصر بات کہ گاوں والوں کی گواہی پر ثبوت ملنے پر عدالت اس قاتل کو سزائے موت سنا دیتی ہے لیکن جب آخری اپیل بھی مسترد ہو جاتی ہے تو وہی گاوں جو سارے کا سارا قاتل کا گھر جلانے اور اسے مارنے کے درپے تھا اس میں سے آدھا گاوں مقتول کے گھر پہنچتا ہے اور انہیں قائل کرتا ہے کہ آپ کا بچہ تو قتل ہو گیا ہے اس نے تو اب واپس نہیں آنا آپ اب قاتل کو معاف کر دیں ، غم میں نڈھال اور بچے سے پیار کیو جہ سے مقتول اسے معاف نہیں کرتی اور پھر اس قاتل کو پھانسی ہو جاتی ہے تو جب قاتل کی میعت گاوں پہنچتی ہے تو وہی سارا گاوں جو کل تک اسے مارنے کے درپے تھا اس کے نہ صرف جنازے میں شریک ہوتا ہیں بلکہ مقتول کے گھر والوں کو بھی برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے معاف نہیں کیا
کچھ اسی طرح کی حالت ہماری قوم کی ہے جب ممتاز قادی کو عجلت میں پھانسی دی گئی تھی اس وقت اس قوم کے جذبات دیکھنے والے تھے جب پانامہ کیس آیا تھا تو سب چور چور کہتے تھے کہ گلی گلی میں شور ہے، جب ختم نبوت کے قانون کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو فیض آباد دھرنے کی وجہ سے سب نے دیکھا کہ نواز لیگ کے وزیروں کے گھروں پر حملے شروع ہو گئے تھے نواز لیگ کے سیاسی جھنڈے بینرز گھرو ں سے اترنے شروع ہو گئے تھے پاکستان کے گلی کوچے نواز شریف کی حکومت سے نفرت پر سراپہ احتجاج تھی موٹروے ، جی ٹی روڈ، تمام ٹی وی چینلز ، انٹرنیٹ، ہوائی جہاز ریلوے ، موبائل سب کچھ بند تھا نظام زندگی معطل تھا ، نواز حکومت کی رٹ عملی طور پر پاکستان میں کہیں نظر نہیںآ رہی تھی ایسے میں آرمی چیف مداخلت کرتے ہیں پھر فیض آباد دھرنا ختم ہوتا ہے ، زندگی معمول پر آنا شروع ہوتی ہے ، احتساب کورٹ میں پیشیاں شروع ہوتی ہیں پھر جب کیس کا فیصلہ قریب ہوتا ہے تو پھرنواز شریف اپنی بیٹی کے ہمراہ کلثوم نواز کی عیادت کے لئے لندن پہنچ جاتے ہیں تو پھر اسی طرح کا ایک ڈرامہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے نواز شریف اپنے دل کی سرجری کے لئے پچپن دن اسی ہوٹل میں بستر پر پڑئے رہے جہاں پر ابھی کلثوم نواز ہیں اجہاں سے ان تیس دنوں میں کوئی ایک سیلفی بھی باہر نہیں آتی جہاں کی ایک ایک لمحے کی سیلفیاں اس سے قبل آتی تھیں اور پھر جب عدالت سے سزا ہوتی ہے اور عدالتی مجبوریوں کے باعث میاں نواز شریف کو اپنی بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آنا ہوتا ہے تو پھر اللہ انہیں صحت کاملہ دے ان کی آنکھ بھی کھل جاتی ہے اور پھر ایک ہفتہ قبل عدالت سے کیس کا فیصلہ ملتوی کروانے کی درخواست دینے والے اس وقت واپس آنے کا فیصلہ کرتے ہیں جب ایون فیلڈ کے باہر نواز شریف فیملی کی بہت عزت افزائی ہو رہی ہوتی ہے ۔
اور پھر سب سیکھتے ہیں کہ مریم نواز اعلان کرتی ہیں کہ وہ اسلام آباد کی بجائے لاہور اتریں گی چونکہ نواز شریف اپنی والدہ کو ملنا چاہتے ہیں اور پھر پاکستان بھر سے 180قومی390صوبائی اسمبلی اور 35سنیٹر رکھنے والی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو اپنے محبوب قائد کے استقبال کے لئے اس شہر میں بلایا جاتا ہے جہاں پر پچاس لاکھ سے زیادہ لیگی ووٹرز ہیں پھر جب طیارہ ابو ظہبی پہنچتا ہے تو پھر چھ گھنٹے قیام کے بعد اس آئیر لائن کا طیارہ تین گھنٹے دیر سے آتا ہے جس نے بین القوامی مسافروں کو کنیکٹنگ فلائٹس کے ذریعہ دنیا بھر میں لے کر جانا ہوتا ہے یہ تین گھنٹے تو ابوظہبی آئیرپورٹ دوسری فلایٹ کے لئے بھی کم ہوتے ہیں ، پھر نہ تو شہباز شریف عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لے کر آئیر پورٹ پہنچتا ہے نہ والدہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کسی قسم کی مزاہمت ہوتی ہے کیونکہ۔۔۔
کہتے ہیں کہ یہ دیری ایسے ہی نہیں ہوئی وہاں پر، اس دوران ڈیل ہوتی رہی جس کے نتیجہ میں یہ طے ہوا ہے کہ میاں صاحب بغیر کسی مزاحمت کے گرفتاری دینگے اور پھر اس کے نتیجہ میںنہ صرف انہیں پیر کے روز سرکاری وکیل کے ذریعہ اپیل میں ڈھیل دی جائے گی اور پھر احتساب عدالت کا فیصلہ معطل ہونے کے بعد انہیں جیل سے رہائی ملے گی جس کے بعد اس مرتبہ مریم بی بی ایک مرتبہ پھر براستہ جی ٹی روڈ لاہور جاینگے اور اس مرتبہ جی ٹی روڈ کی سپیڈ 120کلو میٹر فی گھنٹہ بھی نہیں ہو گی اور اتنی لمبی بھی نہیں ہو گی کیونکہ تین دن مسلسل تین دھماکوں سے بھی وہ آگاہ ہونگے ۔ اس طرح میاں نواز شریف نے ایک اور ڈیل کر کے اپنے بیانیہ کو سمندر برد کر دیا ہے جس سے انہیں پنجاب کے جی ٹی روڈ سے تو کچھ حصہ اور پنجاب مل جائیگا لیکن انہوں نے اپنی سیاست اور بیانیہ کو بہت نقصان پہنچا دیا ہے
دسرا مکافات عمل دیکھیں کہ 29فروری 2016کے طاقت ور ترین حکمران اسی جیل میں پہنچ چکے ہیں جہاں پر طاقت کے نشے میں انتہائی عجلت میں ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تھی اور پھر اس کے بعد وہ ٹائی ٹینک آہستہ آہستہ ایسے ڈوبا کہ ممتاز قادری کی حکومت ابھی بھی لاکھوں دلوں پر ہے اسکا مزار ادن بدن پر رونق ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومتوں والے اب اسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں سے ممتاز قادری غازی ہو کر نکلے تھے ۔ میاں صاحب اگر موقع ملے تو اس پھانسی کی کوٹھری میں ضرور چکر لگانا جہاں ممتاز قادری نے اپنے دنیاوی زندگی کی آخری سانسیں لی تھیں۔پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ ممتاز قادری قاتل تھا کہ آپ نے اسے عجلت میں شہید کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں