40

مستونگ میں خودکش دھماکا، بی اے پی امیدوار سراج رئیسانی سمیت 128 سے زائد افراد شہید

مستونگ: انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 128 سے زائد افراد شہید اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے۔

لیویز ذرائع کے مطابق مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

نگران صوبائی وزیر داخلہ نے واقعے میں 128 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جب کہ نوابزادہ لشکری رئیسانی کی جانب سے اپنے بھائی سراج رئیسانی کی شہادت کی تصدیق کی گئی۔

بنوں: رہنما جے یو آئی (ف) اکرم خان درانی کے قافلے کے قریب دھماکا،4 افراد جاں بحق

ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق سراج رئیسانی کو زخمی حالت میں علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

یاد رہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے، وہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔

مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کرلیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو کوئٹہ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

اسپتال ذرائع کے مطابق مستونگ واقعے میں شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سول اسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں میتیں رکھنے کی جگہ کم پڑگئی اور مردہ خانے کے علاوہ شعبہ حادثات میں بھی میتیں رکھی گئیں۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مستونگ دھماکے کو خود کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں 16 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے مستونگ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیر اعلی بلوچستان، آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی۔

چیف الیکشن کمشنر نے تمام امیدواروں کو بلاامتیاز سیکیورٹی فراہم کرنے اور انتخابات کے ماحول کو پر امن اور سازگار بنانے کی ہدایت کی۔

آرمی چیف و نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مذمت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستونگ میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی مخلص اور قابل سیاستدان سراج رئیسانی سے محروم ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی دشمن قوتوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور تمام پاکستانی متحد ہوکر دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔

بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری نے بھی مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات انتخابات کرانے کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے اور سانحہ درینگڑھ میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شہید نوابزادہ سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھے، جو ملک میں استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کررہے تھے، وہ قومی اتحاد اور ملک کی سلامتی کے علمبردار تھے۔

سوگ کا اعلان

حکومت بلوچستان نے سانحہ مستونگ پر2 روزہ سوگ کا اعلان کیا جس کے باعث سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہےگا۔

بلوچستان عوامی پارٹی نے سانحہ مستونگ پر 3 دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں معطل کردیں۔ پارٹی کے سربراہ جام کمال کا کہنا تھا کہ کل کوئٹہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کاجلسہ منسوخ کردیا گیا ہے۔

7 دن میں 4 دہشت گرد حملے

واضح رہے کہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران 7 دن میں 4 دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں جس میں 2 امیدواروں ہارون بلور اور سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہوئے۔

گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کی انتخابی مہم کو نشانہ بنایا گیا اور جلسے کے بعد ان کے قافلے کے قریب دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

اس سے قبل 10 جولائی کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور بھی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش دھماکے میں شہید ہوگئے تھے، اس حملے میں 22 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

7 جولائی کو بنوں میں ہی پی کے 89 میں انتخابی مہم کے دوران متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیریں کے قافلے کے قریب حملہ ہوا تھا، جس میں 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں