35

نتائج کاسلسلہ جاری،مسلم لیگ کادھاندلی کاالزام،تحریک انصاف کاجشن

ویب ڈیسک
پاکستان کے 11 ویں انتخابات عوام کی بھرپور اُمنگوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے جس کے بعد بتدریج پولنگ اسٹیشنز سے نتائج موصول ہونا شروع ہورہے ہیں، قومی اسمبلی کے حلقوں کے 20 فیصد پولنگ اسٹیشنز سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے جبکہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں جشن منانا شروع کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔

مریم اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض پولنگ اسٹیشنز پر ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا ہے، ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن کے دروازے بند کر کے فارم 45 نہیں دیاجا رہا۔

مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا مینڈیٹ چوری ہوا تو ہمیں قبول نہیں ہوگا اور سوال کیا کہ تصدیق شدہ نتائج نہ دینے کا ذمہ دار کون ہے، الیکشن کمیشن جواب دے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے انتخابی نتائج پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کے بعد وضاحت کی ہے کہ شکایات پر تحقیقات کی جائے گی۔

ای سی پی کے سیکریٹری محمد یعقوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر انتخابات کے حوالے سے شکایات ہیں،وہاں نتائج کو چیک کیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، متحدہ مجلس عمل اور تحریک لبیک پاکستان نے بھی انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 156 ملتان کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شاہ محمود قریشی 93 ہزار 5 سو ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ (ن) کے عامر سعید انصاری 74 ہزار 6 سو 24 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں