34

صرف 4 مہینوں میں ذیابیطس کا خاتمہ ممکن

نئی دہلی: ذیابیطس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض کو 4 معمولی باتوں پر عمل کر کے شکست دی جا سکتی ہے۔

عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ ذیابیطس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ہے بلکہ اس مرض کو صرف متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور معالج کے مشوروں پر عمل درآمد کر کے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاہم کچھ ایسے تجربات بھی سامنے آئے ہیں جو کسی طور پر بھی معجزے سے کم نہیں ہے ایسی ہی ایک مثال سوشانت سنگھ ہی ہے جنہوں نے 4 معمولی باتوں پر عمل کرکے شوگر کو شکست دے دی۔

37 سالہ سوشانت سنگھ شوگر کے مریض تھے لیکن صرف 16 ہفتوں میں سوشانت سنگھ ناصرف خون میں شوگر کی مقدار کو نارمل سطح پر لے آئے بلکہ اپنے وزن میں بھی 5 کلو گرام تک کمی کی۔
سوشانت سنگھ نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے طرز زندگی میں معمولی تبدیلی کیں جیسے انہوں نے سفر کے دوران اپنی معمول کی غذا میں سے سموسہ اور کچوری کی جگہ بادام اور چنے کو شامل کرلیا اسی طرح گھر میں متوازن غذا کا استعمال کیا جس کے لیے میٹھے سے پرہیز اور چکنائی کو بالکل ترک کردیا اور ساتھ ہی پھل اور سبزیوں کو معمول کی خوراک کا لازمی حصہ بنالیا۔

غذا میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش سے اپنا وزن گھٹانے میں بھی کامیاب رہے جس سے نہ صرف وہ چاک و چوبند رہنے لگے بلکہ ان کا شوگر لیول بھی کم ہوگیا۔ تاہم متوازن غذا، ورزش اور وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ اہداف متعین کر کے اس کے حصول کے لیے ’فوکس‘ رہنا بے حد ضروری ہے۔ ان چار چیزوں سے ذیابیطس کو لگام دی جا سکتی ہے۔

واضح رہے HbA1c خون کا ٹیسٹ ہے جو ہر 3 ماہ بعد کرایا جا سکتا ہے اور جس سے پورے تین ماہ میں شوگر لیول کا اوسط معلوم ہوجاتا ہے ایک نارمل انسان میں 3 ماہ کی اوسط HbA1c کو 6 فیصد سے کم ہونا چاہیئے جب کہ 6 سے 6.4 فیصد تک ’پری ڈیابیٹک کنڈیشن‘ ہوتی ہے اور اس سے اوپر والے باقاعدہ ذیابیطس کے مریض شمار کیے جاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں