13

مریخ پر پانی سے بھری ’جھیل‘ دریافت

واشنگٹن: سرخ سیارے مریخ پر مائع پانی سے بھری ایک جھیل کے اشارے ملے ہیں جو سیارے کے جنوبی قطب پر موجود ہے اور اس کا رقبہ لگ بھگ 20 کلومیٹر ہے۔ اگرچہ اس سے قبل مریخ پر پانی کے آثار ملتے رہے ہیں اور ان کی سچائی بھی ثابت نہیں ہوتی رہی ہے لیکن یہ پہلے ثبوت ہے کہ مریخ پر ایک طویل عرصے سے پانی کا کوئی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
اگرچہ مریخ کی سطح ایک طویل عرصے سے سرد ترین ہوتی جارہی ہے اسی بنا پر ماہرین کا خیال تھا کہ اس میں پانی برف کی صورت موجود ہوسکتا ہے۔ تاہم یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے مارس ایکسپریس آربٹر پر لگے ریڈار نے سیارے کے برفیلے جنوبی قطب کے نیچے جھیل کی نشاندہی کی ہے۔
مارس آربٹر کے ڈیٹا پڑھنے اور تحقیق کرنے والے مرکزی سائنسداں پروفیسر روبرٹو اوریسیائی ہیں جو اٹلی کے قومی مرکز برائے فزکس سے وابستہ ہیں۔ ’ آربٹر کے خاص مارسِس ریڈار نے اسے دریافت کیا ہے لیکن یہ کوئی بہت بڑی جھیل نہیں ہے۔‘
اگرچہ مارسِس پانی کی سطح کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن ماہرین نے کا خیال ہے کہ جھیل میں پانی کی گہرائی ایک میٹر تک ہوسکتی ہے۔ اسی بنا پر یہ ایک جھیل ہے نہ کہ برف پگھلنے سے بننے والا کوئی جوہڑ ہے۔
مارسِس ریڈار نے سیارے کے قطب پر شعاعیں پھینک کر بتایا کہ سطح سے ٹکرا کر واپس آنے والی ریڈیائی امواج سے یہاں برف اور گرد کی پرت موجود ہے اور اس کے ڈیڑھ کلومیٹر نیچے مائع پانی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کے زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے اور اس لحاظ سے یہ ایک حیرت انگیز دریافت ہے۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس دریافت کے باوجود وہاں زندگی کی کسی شکل کا مل جانا فوری طور پر ممکن نہیں۔

ابتدائی تحقیق کے مطابق جھیل کے پانی میں کئی طرح کے نمکیات موجود ہوسکتے ہیں اور اس طرح وہاں حیات کی موجودگی مشکل ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں