13

ہلدی گلوکوما کے علاج میں بھی مؤثر ثابت

لندن: لگتا ہے کہ ہلدی کے جادوئی فوائد ان گنت ہیں کیونکہ اس عام گھریلو مصالحے میں موجود مرکب ’سرکیومِن‘ سبز موتیا (گلوکوما) کی روک تھام میں بھی مؤثر ثابت ہوا ہے اور برطانوی ماہرین نے اسے متاثرہ مقام تک پہنچانے کا ایک نیا طریقہ بھی ڈھونڈ نکالا ہے۔

گلوکوما میں آنکھ میں مائع بھرنے سے آنکھ کو دماغ سے جوڑنے والے قدرتی اعصاب تیزی سے تباہ ہوتے ہیں۔ آنکھ کے اس اعصابی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ماہرین آنکھوں میں ٹپکانے کے قطرے تجویز کرتے ہیں لیکن اب نہ صرف ہلدی میں موجود ایک جزو ’سرکیومن‘ سے اس مرض کو دور کرنا ممکن ہے بلکہ اسے آنکھ کے متاثرہ حصے تک پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کرلیا گیا ہے۔

برطانیہ میں کنگز کالج اور امپیریل کالج کے سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ سرکیومِن گلوکوما کی ابتدائی کیفیت کو ٹھیک کرسکتی ہے ماہرین جانتے ہیں سرکیومن حل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے جسم کے اندر جاکر بہت مشکل سے اس کا حصہ بنتا ہے اور انہوں نے اس کا بھی ایک حل تلاش نکالا ہے۔

قبل ازیں سرکیومن دل کے امراض، بلڈ پریشر، دماغی بیماریوں، الزائیمر، جسمانی جلن اور دیگر کئی بیماریوں میں انتہائی مفید ثابت ہوچکا ہے اور اب اسے آنکھوں میں استعمال کرکے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی بینائی بچائی جاسکتی ہے۔

اب سائنس دانوں نے کہا ہے کہ آنکھ کے ریٹینا میں پائے جانے والے ’ریٹینیئل گینگلیئن سیلز‘ صحت مند بصارت کی ضمانت ہوتے ہیں اور گلوکوما میں یہ سب سے پہلے متاثر ہونا شروع ہوتے ہیں۔

جب خرگوشوں پر سرکیومن آئی ڈراپس آزمائے گئے تو ابتدائی مرحلے میں ان کی آنکھوں میں ان خلیات کے متاثر ہونے کا عمل تھم گیا۔ تاہم پہلے مرحلے میں خرگوشوں کو سرکیومِن منہ کے ذریعے کھلائی گئی تھی۔ دوسرے مرحلے میں نینو ذرات میں سرکیومن بھر کر اس سے آئی ڈراپس بنائے گئے جو پہلے سے ہی آنکھوں کے قطروں میں استعمال ہورہے ہیں۔

جب ماہرین نے نینو ذرات کے ذریعے سرکیومن شامل کیا تو بدن میں اس کے انجذاب کی شرح چار لاکھ گنا بڑھ گئی اور اس نے درست مقام پر دوا پہنچانے میں بھی مدد کی۔ اس طرح اگر سرکیومِن کو کسی نینو ذریعے سے آنکھ کے اندر ڈالا جائے تو وہ بہت اچھی طرح متاثرہ مقام تک پہنچتا ہے۔

اگلے مرحلے میں سرکیومن بھرے نینو آئی ڈراپس متاثرہ چوہوں کو دن میں دو مرتبہ ڈالے گئے اور یہ سلسلہ تین ہفتے تک جاری رکھا گیا۔ اس طرح جن چوہوں کو ڈراپس نہیں دیئے گئے ان کے مقابلے میں قطرے ٹپکائے جانے والے چوہوں میں بینائی کے خلیات کی تباہی بہت حد تک کم ہوگئی اور اس عمل میں کوئی سائیڈ افیکٹس اور جلن وغیرہ پیدا نہیں ہوئی۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر بین ڈیوس نے کہا کہ اگلے مرحلے میں اس طریقے کو آنکھوں کے علاج کے دیگر طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں