24

صدی کا طویل ترین چاند گرہن ‘بلڈ مون’ پاکستان میں سوا 6 گھنٹے نظر آنے کے بعد ختم

اکیسویں صدی کا طویل ترین چاند گرہن ‘بلڈ مون’ پاکستان میں سوا 6 گھنٹے نظر آنے کے بعد ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجائے تو چاند کو گرہن لگتا ہے، لیکن اگر چاند کو مکمل گرہن لگ جائے اور وہ مخصوص زاویئے سے آنے والی روشنی کی وجہ سے سرخی مائل رنگ اختیار کرلے تو اسے ‘بلڈ مون’ کہا جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلڈ مون پاکستان میں جمعے کی رات 10 بج کر 15منٹ پر شروع ہوا، جو رات ساڑھے 12 بجے سے سوا 2 بجے تک اپنے عروج پر رہا۔

یہ اس صدی کا طویل ترین چاند گرہن تھا، جس کا دورانیہ 102منٹ اور57 سیکنڈ تھا، بلڈ مون ایشیاء، افریقہ اور یورپ میں دیکھا گیا۔

کراچی میں چاند گرہن دیکھنے کے انتطامات

دوسری جانب سائنسدانوں نےجامعہ کراچی میں چاند گرہن دیکھنے کا انتظام کیا اور ہائیڈرواینالائسز پروسس کے ذریعے چاند گرہن کے دوران سمندر میں ہونے والی تبدیلی کا جائزہ لیا گیا۔

کراچی میں مکمل چاند گرہن دیکھنے کے لیے جامعہ کراچی کے شعبے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ پلینیٹری آسٹروفزکس (اسپا) میں انتظامات کیے گئے تھے۔

پاکستانی سائنسدانوں ڈاکٹر اورنگزیب الہافی، ڈاکٹر ظفر سیفی، ڈاکٹر عمر فاروق اور دیگر نے دوربین سے چاند گرہن کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کی لیکن بادل ہونے کے باعث بلڈ مون کا نظارہ نہیں کیا جاسکا۔

اس دوران سمندر میں مدوجزر کا مشاہدہ کرنے کے لیے سمندر سے لائے گئے پانی کا مشاہدہ ہائیڈرواینالائسز کے ذریعے کیا گیا۔

پاکستان میں آج چاند گرہن کے موقع پر نئی تاریخ رقم ہو گی

ڈاکٹر اورنگزیب الہافی نے چاند گرہن کے دوران سمندر کے مدوجزر میں ہونے والی تبدیلی سے متعلق آگاہ کیا۔

سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر ظفر سیفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس نوعیت کے تجربات کے لیے آلات کی کمی کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں سمندر کے مدوجزر میں تبدیلی ہوتی ہے لیکن چاند گرہن کے دوران ہونے والی تبدیلی مختلف ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں