19

سفارتی کشیدگی کے باوجود کینیڈا کو تیل کی ترسیل جاری رہے گی،سعودی عرب

ریاض: سعودی عرب نے کہا ہے کہ سفارتی تنازع کے باوجود کینیڈا کو تیل کی ترسیل متاثر نہیں ہو گی۔

جرمن خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے کو بتایا کہ سعودی پالیسی کے مطابق سیاسی معاملات کو پیٹرول کی سپلائی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں ان کے صارفین کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

خیال رہے کہ کینیڈا او سعودی عرب کی باہمی تجارت کا سالانہ حجم 4 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

اندرونی معاملات میں مداخلت،سعودیہ کا کینیڈین سفیرکو 24گھنٹےمیں ملک چھوڑنے کا حکم

ان دنوں کینیڈا کی وزیر خارجہ کے سعودی عرب میں زیر حراست انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے مطالبے پر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی جاری ہے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی اور معدنی دولت انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کینیڈا اور سعودی عرب کے تعلقات جس صورتحال سے گذر رہے ہیں ان کا کینیڈا میں سعودی پٹرولیم کمپنی آرامکو کے صارفین پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انجینئر خالد الفالح کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب پیداواری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی معیشت کو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز اٹھاتے رہیں گے، کینیڈین وزیراعظم
دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی جہاں کہیں بھی ہو گی اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ نہیں چاہتے لیکن اپنے اصولوں سے بھی رو گردانی نہیں کر سکتے۔

کینیڈین وزیراعظم نے سعودی عرب کے اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملے پر سعودی عرب نے پیشرفت کی ہے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی وجہ سے سعودی عرب نے کینیڈا میں اپنے شہریوں کے علاج کے تمام پروگرامز کو روک دیا ہے ارو کینیڈا میں زیر علاج تمام سعودی شہریوں کو کینیڈا سے باہر دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ریاض حکومت نے رواں ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ کینیڈا کے ساتھ نئے معاہدوں اور سرمایہ کاری کے منصوبہ جات کو منجمد کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب سے کینیڈین سفیر کو بھی بیدخل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ ان سعودی اقدامات کی وجہ بظاہر کینیڈا کا وہ مطالبہ بنا ہے، جس میں سعودی عرب پر زور دیا گیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنان کو رہا کر دے۔

سعودی عرب سے کشیدگی کی وجہ سے کینیڈین کرنسی کی قدر میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں