10

منہ کو صاف رکھیے تو پھیپھڑے بھی تندرست رہیں گے

ٹوکیو: جاپان میں کئے گئے ایک طویل سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر دانتوں اور منہ کی درست صفائی نہ کی جائے تو اس سے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔

جرنل ایم اسفیئر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جاپان کے بزرگ افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق منہ اور خصوصاً زبان پر پائے جانے والے بیکٹیریا کا پھیپھڑوں کی تندرستی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ سروے کا خلاصہ یہ ہےکہ دانتوں اور منہ کی صحت بالخصوص بزرگوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر اس کا خیال نہیں رکھا جائے تو پھیپھڑوں اور سانس کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

جاپانی شہر فوکوکا میں واقع کیوشو یونیورسٹی میں اورل ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر یوشی ہیسا یاما شیٹا اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ منہ کے بیکٹیریا اگر جسم کے اندر چلے جائیں تو وہ ہماری صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں منہ کے بیکٹیریا اور جراثیم کینسر، موٹاپا، امراضِ قلب اور دیگر امراض کی وجہ بھی بنتے ہیں۔

جاپانی ماہرین نے 2016 کے درمیان 70 سے 80 برس کے 503 بزرگوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بعض بزرگ کھانسنے اور غذا نگلنے کے عمل میں بھی مضر بیکٹیریا کے شکار ہورہے ہیں۔

اس عمل میں ماہرین نے جدید طریقوں سے جینیاتی جائزہ بھی لیا جسے 16 ایس اراین اے جینیاتی سیکوئنس کہا جاتا ہے۔ ماہرین حیران رہ گئے کہ منہ میں پائے جانے والے چار بیکٹیریا نمونیا کی وجہ بنتے ہیں اور بزرگوں کی ہلاکت کی وجہ بھی بن رہے ہیں۔

ان بیکٹیریا کے نام پری ویٹولا ہسٹی کولا، وائلونیلا اٹائپیکا، اسٹریپٹوکوکس سیلی وائرس، اور اسٹریپٹو کوکس پیراسینجیئنس ہے۔

بزرگ حضرات دانت درست انداز میں صاف نہیں کرتے، پھر دانتوں میں خلا ، کم دانت اور میل کچیل کی وجہ سے یہ چاروں اقسام کے بیکٹیریا پھلتے پھولتے رہتے ہیں۔ انہی بوڑھے افراد کے منہ میں ایک قسم کی فنجائی بھی نوٹ کی گئی ہے۔

اس طرح یہ بیکٹیریا مریضوں کے پیٹ میں جارہے ہیں اور آنتوں میں بیکٹیریا کے توازن کو تباہ کررہے ہیں۔ اس سے نہ صرف سانس کے امراض جنم لے رہے ہیں بلکہ آنتوں کی جلن اور امراض کے شکار بھی ہورہے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں