16

نجم سیٹھی کی رخصتی کے بعد کرکٹ بورڈ میں مزید انتظامی تبدیلیاں یقینی

پاکستان کرکٹ بورڈ سے نجم سیٹھی کی رخصتی کے بعد نئے چہرے سامنے آرہے ہیں اور کچھ مزید انتظامی تبدیلیاں یقینی ہیں۔

نجم سیٹھی کے قریب رہنے والے کئی افسران کو گھر بھیج کر نئی انتظامی ٹیم سامنے لائی جائے گی۔ تبدیلی کے دور میں نئے پاکستان میں نیا کرکٹ لانے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم عمران خان نے پی سی بی گورننگ بورڈ میں احسان مانی اور اسد علی خان کو تین تین سال کے لیے نامزد کیا ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں احسان مانی نیا نام نہیں ہے، وہ آئی سی سی صدر کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ اسد علی خان بھی احسان مانی کی طرح پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں یہ نام بالکل نیا ہے تاہم وہ کلب کرکٹر، قصور کرکٹ اور ویٹرنز کرکٹ سے وابستہ رہے ہیں۔

پی سی بی کے اسد علی خان شہباز شریف کی پنجاب حکومت کے ساتھ آزاد بورڈ ممبر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ اسد علی خان سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کہ وہ آزاد کنسلٹنٹ کی حیثیت سے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کی ذاتی کمپنی پاکستان کی چند بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو ٹیکنالوجی پر کنسلٹنسی خدمات فراہم کرتی ہے۔

اسد علی خان 2015 سے 2018 تک نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ سے وابستہ رہے، اسی عرصے میں وہ قائداعظم تھرمل پاور کمپنی سے بھی منسلک رہے۔ وہ پنجاب پاورڈیولپمنٹ کمپنی میں بھی ذمے داریاں نبھا چکے ہیں۔

اسد علی خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں کچھ نیا کرنے کی خواہش ہے، وزیر اعظم عمران خان سے میری آخری ملاقات 14 سال پہلے ہوئی تھی، نامزد چیئرمین احسان مانی سے بھی چند ملاقاتیں ہیں۔

اسد علی خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں میری نامزدگی کرکے جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں انہیں دیانت داری سے پورا کروں گا، خواہش ہے کرکٹ بورڈ میں کارپوریٹ کلچر اور اچھی گورنس آسکے۔

خیال رہے کہ اسد علی خان نے اعلیٰ تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی ہے۔ سڈنی میں 1965 سے1968تک گریڈ کرکٹ کھیلی اس وقت ویسٹ انڈین ویزلے ہال بھی اسی کلب سے کھیلتے تھے۔ وہ تین سال قصور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ پنجاب ویٹرنز ایسوسی ایشن کے بورڈ ممبر ہیں۔

اسد علی خان سعودی عرب میں جدہ کرکٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ رہے اور وہاں 10 کرکٹ پچز بنوائیں۔ اسد علی خان کا کہنا ہے کہ 30 سال سے کنسلٹنسی فیلڈ سے وابستہ ہوں، پاکستان، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پروفیشنل بورڈ کا ممبر رہ چکا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پرائیویٹائزیشن کے کئی منصوبوں پر پی آئی اے، ایسکو،لیسکو سے بھی منسلک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں