38

پاکستانی فلموں کیلئے بڑی عید پر 35 کروڑ کی عیدی

بڑی عید سینما گھروں میں بڑی فلموں کی بڑی خوشیاں لے کر آئی۔ یہ پاکستانی فلموں کی وہ جوانی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’یہ جوانی پھر نہیں آنی‘ لیکن اس عید پر تو پاکستانی فلموں نے خوب ’پرواز’ کی اور ‘جنون‘ ایسا تھا کہ سینما گھروں میں فلم دیکھنے والوں کا اتنا ہی ” لوڈ“ نظر آیا، جتنا کسی کی ”ویڈنگ“ میں ہوتا ہے۔

عید کی تینوں فلموں کے لیے پہلے سے ریلیز شدہ ایک فلم نے ”ٹربل“ نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کیں۔ بڑی عید پر ریلیز ہونے والی تین فلموں ’لوڈ ویڈنگ‘، ’پرواز ہے جنون‘ اور ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ نے پانچ دنوں کے لمبے عید ویک اینڈ پر 30 سے 35 کروڑ کا ریکارڈ بزنس کیا اور ان فلموں میں اگر ’طیفا اِن ٹربل‘ کا ایک اور کروڑ شامل کریں تو یہ پیسہ اور بھی بڑھ جائے گا۔

اس دوران کئی ریکارڈز بنے، ان میں سب سے بڑا ریکارڈ پاکستانی باکس آفس کی ایک دن کی کمائی کو 7کروڑ سے بھی اوپر لے گیا۔ پاکستان میں 200 سے بھی کم اسکرین ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہر فلم کا تقریباً ہر شو ہاؤس فل گیا یعنی سنیما گھروں کے ان پانچ دنوں میں 90 فیصد سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہوئے جب کہ کئی سنیما نے ایکسٹرا شوز بھی لگائے۔

تینوں فلمیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور اپنے اپنے ٹارگٹ آڈینس کے لیے بہترین رہیں اور ابھی یہ فلمیں صرف اپنے ملک کی مارکیٹ کا حجم 70 کروڑ یا اس سے اوپر لے جاسکتی ہیں کیونکہ ابھی آگے بالی وڈ یا ہالی وڈ کی کوئی بڑی فلم بھی نہیں۔

عید کی تینوں فلموں نے ’طیفا ان ٹربل‘ سے ملنے والی ”کِک“ کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ ’طیفا‘ اب تک دنیا بھر سے 40 اور صرف پاکستان سے 31 کروڑ کا بزنس کرچکی ہے، وہ بھی کسی عید یا چھٹیوں کی مدد کے بغیر، یہی نہیں طیفا کے گانے ’آئٹم نمبر‘ اور ’چن وے‘ فلم کی ریلیز کے دوران ہی صرف یو ٹیوب پر ایک ایک کروڑ ہٹس لے چکے ہیں۔ یہ وہ ریکارڈز تھے جن کو بنانا تو دور کی بات، ان ریکارڈز کا سوچنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔

خیر باتیں بنانے والوں کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے لیکن کام کرنے والوں نے بتادیا کہ کام ہورہا ہے اور زبردست ہورہا ہے۔

’جوانی پھر نہیں آنی 2‘
عید پر ریلیز ہونے والی فلم ”جوانی پر نہیں آنی 2“ منچلوں، مزدوروں، دوستوں اور شوہروں کی پہلی پسند بنی تو فیملیز نے ”لوڈ ویڈنگ“ کو ترجیح دی جبکہ نوجوانوں، طالب علموں اور اپر کلاس کو ”پرواز ہے جنون“ نے زیادہ متاثر کیا۔

سنیما گھروں کے حساب سے سب سے زیادہ شوز ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ کو ملے۔ اس فلم نے اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی کامیڈی سے فلم دیکھنے والوں اور سینما چلانے والوں کو شکنجے میں کَس لیا کیونکہ زیادہ شوز ملنے کے بعد اس فلم کے شوز میں اور اضافہ ہوا۔

فلم ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ کی اسٹار کاسٹ — فوٹو: فیس بک
فلم کا بجٹ بھی زیادہ تھا اور کینوس بھی وسیع، اسٹار کاسٹ بھی بہت بڑی تھی اور فلم کی ٹائمنگ بھی بالکل بروقت رہی۔ فلم کے گانے ہلکے تھے اور دورانیہ زیادہ لیکن کامیڈی سب سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ۔ ہمایوں سعید نے ثابت کیا کہ وہ بہت بڑے سپر اسٹار بھی ہیں اور پروڈیوسر بھی کیونکہ انھوں نے اپنی اس فلم میں بھی سب کو بھرپور موقع دیا اور فہد مصطفی کو سائیڈ ہیرو نہیں بلکہ اپنی طرح ہیرو ہی رکھا۔

فلم میں سرپرائز بھی کافی زیادہ تھے اور پہلے والی جوانی پھر نہیں آنی کے دو مرکزی کردار بھی۔ ندیم بیگ مسلسل تین بلاک بسٹر فلمیں بنا کر اس وقت پاکستان کے ڈائریکٹر نمبر ون بن چکے ہیں اور امید ہے وہ آگے بھی اتنی ہی محنت اور کامیابی سے فلمیں بناتے رہیں گے۔

اس فلم میں تمام کرداروں کو اتنی برابری سے پیش کیا گیا کہ حیرت انگیز طور پر یہ فلم سال کی سب سے کامیاب فلم ہونے کے باوجود ”بیسٹ ایکٹر“ کا ایوارڈ اپنے نام نہیں کرسکے گی۔

فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی ’لوڈ ویڈنگ‘
اس عید کا بڑا سرپرائز ’لوڈ ویڈنگ‘ بھی تھی۔ اس فلم میں کئی سوشل ایشوز کو ایک ساتھ بُن کر پیش کیا گیا۔ فلم میں فہد مصطفی اور مہوش حیات کی جوڑی کی کیمسٹری سر چڑھ کر بولی۔ فلم کو سب سے کم شوز ملے لیکن جتنے ملے، اس میں اس نے بہترین بزنس کیا۔

فلم کا ایک اور مثبت پہلو اس فلم کا کم بجٹ تھا، جس کی وجہ سے اس فلم کو کامیاب ہونے کے لیے سب سے کم ٹارگٹ ملا ہوگا۔ واضح رہے کہ نبیل اور فضا کی جوڑی اس سے پہلے ’نامعلوم افراد‘ سیریز اور ’ایکٹر ان لاء‘ جیسی کلاسک فلم بنا چکی ہے۔

فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ — فوٹو: فیس بک
یہ فلم بھی کافی اسمارٹ تھی جس میں پنجاب کی خوشبو اسکرین سے اڑ کر دیکھنے والوں کے مسحور کرتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔ فلم موسیقی اور گانوں کے حساب سے اس عید کی سب سے بڑی فلم تھی، اس کے گانے سنیما میں اور زیادہ بھلے سنائی دیئے۔

مہوش حیات نے اپنے فلمی کیریئر کی ایک اور یادگار پرفارمنس دی اور وہ اس سال بھی پچھلے سال کی طرح بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے فیورٹ ہیں سوائے اس کے کہ ایوارڈ والے اس سال بھی آخر میں پرفارمنس کو نہیں اپنی” برانڈ لائلٹی“کو ترجیح دیں۔

حمزہ علی عباسی اور ہانیہ عامر کی فلم ’پرواز ہے جنون‘
عید کی تیسری فلم ’پرواز ہے جنون‘ تھی، جس میں حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر اور احد رضا میر کی تکون نے سب کے دل جیت لیے۔ فلم کی لوکیشن عید کی سب فلموں پر بھاری تھی جب کہ موسیقی میں بھی اس فلم کا میوزک سب سے ہٹ کر تھا۔

اگر عید کی تینوں فلموں سے صرف ایک گانا چُننا ہو تو وہ گانا عاطف اسلم کا ”تھام لو“ ہوگا۔

فلم ’پرواز ہے جنون‘ — فوٹو: فیس بک
ہانیہ عامر کو بہت مشکل کردار ملا۔ اس فلم نے پچھلی عید پر ریلیز ہونا تھا لیکن ایک بار ملتوی ہونے کے باوجود اس فلم پر سب نے اعتماد رکھا اور سنیما گھروں میں جا کر اس فلم کو دیکھا۔

احد رضا میر کی یہ پہلی فلم تھی لیکن انہوں نے اتنی جاندار پرفارمنس دی کہ وہ اس سال بہترین اداکار کے ایوارڈ کیلئے بھی فیورٹ ہیں۔ ان کا ڈیبیو، روایتی ڈیبیو سے کافی مختلف اور سنجیدہ تھا، جس میں کوئی رقص تک نہیں تھا۔

عید کی یہ تینوں فلمیں اگر کسی عید کے بجائے عام دن میں بھی ریلیز ہوتیں، تو بھی بہت اچھا بزنس کرتیں لیکن عید کے دنوں، چھٹیوں، زیادہ شوز، اپنے معیار، فلم بینوں کے اعتبار، ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلموں کی غیر حاضری نے ان فلموں کو عید پر بھی بہت بڑی اوپننگ دی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں