8

سپریم کورٹ نے نیب کو حسین حقانی کی وطن واپسی کا ٹاسک دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ٹاسک دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں میمو کمیشن کیس کی سماعت ہوئی تو اس موقع پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے حسین حقانی سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسین حقانی کے خلاف عبوری چلان ٹرائل کورٹ میں پیش کردیا گیا، ملزم اشتہاری ہے اور امریکا میں رہائش پذیر ہے جس کا پاکستانی پاسپورٹ بلاک کرنے کا عمل جاری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول نے حسین حقانی کی امریکا میں موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے متعدد درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے ملزموں کی واپسی کے معاہدے ہیں اور عدالتی معاون احمر بلال صوفی کے مطابق نیب حسین حقانی کو وطن واپس لاسکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چیئرمین نیب ملزم کی واپسی کے لیے وارنٹ جاری کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب حسین حقانی کو وطن واپس لائے جب کہ عدالت نے نیب کو حسین حقانی کی وطن واپسی کا ٹاسک دے دیا۔

سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ پاکستان کے بیرونی ممالک سے باہمی معاہدے نا ہونے سے مشکلات ہیں۔

اعلیٰ عدالت نے بیرون ملک ملزموں کی وطن واپسی کے لیے قانون سازی کی سفارش کی اور ہدایت کی کہ پارلیمنٹ ایک ماہ میں دیگر ملکوں سے معاہدوں کے لیے قانون سازی کرے۔

میمو گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں اُس وقت امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک مبینہ خط (میمو) سامنے آیا تھا۔

حسین حقانی کی جانب سے بھیجے جانے والے میمو میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہوجائے۔

میمو گیٹ میں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے امریکا سے معاونت مانگی گئی تھی تاکہ حکومت ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قابو میں رکھ سکے۔

اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ میمو درست ہے اور اسے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت امریکا کی حامی ہے۔

اس معاملے کو اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے جس کے بعد حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں