14

عازمین حج کو بیماری سے بچانے کیلئے مستقبل میں جراثیم کش احرام کا منصوبہ

عازمین حج اور عمرہ معتمرین کو بیماریوں سے بچانے کے لیے مستقبل میں جراثیم کش احرام تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

عرب میٖڈیا کے مطابق نینو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے احرام کی تیاری ایک سعودی بزنس مین حمد ال یامی کا آئیڈیا ہے جو پاکستان کے شہر فیصل آباد میں تیار کیے جائیں گے۔

ال یامی کو یہ آئیڈیا اخبار میں ایک خبر پڑھ کر آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ اُم القریٰ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نینو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے مسجد الحرام میں بچھے قالینوں پر چاندی کے نینو اجزاء کی تہہ چڑھا رہی ہے جس کی وجہ سے جراثیم کی افزائش نہیں ہوسکتی۔

تاہم جراثیم سے بچنے کے لیے چاندی کا استعمال پرانا طریقہ ہے۔

ہر سال لاکھوں افراد عمرہ اور حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں جہاں مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔

یہ خبر پڑھ کر ال یامی کو نینو ٹیکنالوجی کے تحت احرام کی تیاری کا خیال آیا اور انہوں نے معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔

دبئی میں ایک جرمن فیشن ڈیزائنر سے ان کا رابطہ ہوا جس نے انہیں جراثیم سے پاک کش احرام بناکر دیئے جن کی فروخت کا آغاز 2017 میں حج کے دوران پہلی بار ہوا۔

انہیں مزید سستا بنانے کے لیے ال یامی نے پاکستان کے شہر فیصل آباد کا رخ کیا جہاں انہیں یہ احرام مزید مناسب قیمت پر بنانے کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے قبول کرلی۔

گورنر مکہ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عمل شروع ہوگیا ہے اور 2030 تک تمام عازمین کو جراثیم سے پاک احرام دستیاب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں