17

پنجاب میگا پراجیکٹس کیس: سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو طلب کرلیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب میگا پراجیکٹس کے ٹھیکوں سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آج شام 4 بجے طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب میگا پراجیکٹس کے ٹھیکوں سے متعلق کیس کی سماعت کی اس موقع پر ایم ڈی میٹرو پراجیکٹ سبطین فضل حلیم عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ایم ڈی میٹرو پراجیکٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘سبطین فضل صاحب آپ کے پراجیکٹس کن مسائل کا شکار ہیں’ جس پر انہوں نے بتایا کہ اورنج لائن پراجیکٹ چین کے قرضے پر چل رہا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین کے دیے گئے قرضے سے کتنا کام ہوچکا اور کنسلٹنٹ کون ہے جس پر سبطین فضل نے بتایا کہ نیسپاک اور سی ای سی کنسلٹنٹ ہیں اور 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، دونوں کمپنیاں چین کی ہیں اور پراجیکٹ مکمل ہونے میں ساڑھے 8 ماہ کا کام رہتا ہے۔

ایم ڈی میٹرو پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ 24 ملین ڈالر کنسلٹنسی چارجز ہیں جس میں سے 18.3 ملین ادا ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں منصوبے کی بروقت تکمیل نا ہونے پر تحفظات ہیں اور غیرمعیاری کام کی شکایات ہیں جس پر سبطین فضل نے کہا کہ ایکنک کی منظوری کے بعد ایل ڈی اے کو رقم ملنی ہے۔

سماعت کے دوران زیڈ کے بی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 30 اکتوبر کی دی گئی تاریخ میں تو پراجیکٹ مکمل نہیں ہوگا، نیسپاک مزید کام کرنے کو تیار نہیں، اس وجہ سے فنڈز رک جائیں گے۔

وکیل نعیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نیسپاک اور چائنیز کمپنی کو کام کرنے کا حکم دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور دوسرے ذمہ داروں کو کل بلوا لیتے ہیں جس پر ایم ڈی میٹرو پراجیکٹ سبطین فضل کا کہنا تھا کہ انہیں بلانے کی ضرورت نہیں، ہم مل بیٹھ کر معاملہ طے کرلیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سارے شراکت دار سپریم کورٹ میں میٹنگ کرکے 2 بجے تک آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شام 4 بجے طلب کرتے ہوئے سماعت دن 2 بجے تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں