16

ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پر ازخود نوٹس کی سماعت آج ہوگی

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ( ڈی پی او) پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پر چیف جسٹس پاکستان کے از خود نوٹس کی سماعت آج ہوگی۔

اعلیٰ عدالت نے آئی جی پنجاب، آر پی او اور ڈی پی او کو آج ذاتی حیثيت میں طلب کیا ہے جب کہ چیف جسٹس نے انکوائری آفیسر کو بھی رپورٹ کے ہمراہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب واقعے کی انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو بھیج دی گئی جس میں بتایا گیا ہے رضوان گوندل کو مانیکا خاندان سے بدتمیزی کرنے والے اہل کاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے، سوشل میڈیا پر معاملے کو غلط رنگ دے کر پیش کرنے کا ذمے دار قرار دے دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کا ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) اور ڈی پی او رضوان گوندل کو جمعہ 24 اگست کو طلب کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس موقع پر ڈی پی او رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنےکا حکم دیا گیا، تاہم ڈی پی او رضوان نے یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کردیا کہ اس میں پولیس کا کوئی قصور نہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی پی او رضوان کا ٹرانسفر خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی نہ مانگنے پر کیا گیا۔

اس معاملے پر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او اور ڈی پی او کو طلب کرکے دونوں افسران کو معاملہ ختم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رپورٹ نہ دینے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں