33

شہری تشدد کیس: کوئی جانور کو بھی ایسے نہیں مارتا، چیف جسٹس عمران شاہ پر برہم

کراچی: سپریم کورٹ میں عام شہری پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی عمران علی شاہ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھپٹر مارا؟ کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کراچی رجسٹری میں پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی کی جانب سے عام شہری پر تشدد کے از خود خود نوٹس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے عمران علی شاہ کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ عوام کے نمائندے ہیں، کیا اس طرح تشدد کریں گے؟’

پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا شہری پر تشدد، تحریک انصاف نے شوکاز نوٹس جاری کردیا

ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ ‘میں باہر آتا ہوں، مجھے مار کر دکھائیں’۔

جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ ناقابل معافی جرم ہے’۔

اس موقع پر عمران علی شاہ نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘سوری سر میں شرمندہ ہوں’۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے، ‘کیا سوری؟ میں نے بچپن میں ملازم کو بیلٹ سے مارا تھا، میرے والد نے بھی مجھے دوبار سبق سکھانے کے لیے مارا تھا’۔

چیف جسٹس نے متاثرہ شہری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ معاوضہ لے کر بیٹھ گئے،کیوں معاف کیا، عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا’۔

تشدد کا نشانہ بننے والے شہری نے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کو معاف کردیا

جس پر متاثرہ شہری داؤد چوہان نے جواب دیا کہ ‘نامزد (اب موجودہ) گورنر سندھ عمران اسماعیل میرے گھر پر چل کر آئے تھے’۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا، ‘عمران شاہ نے کتنے تھپٹر مارے تھے؟’

عمران شاہ نے چیف جسٹس کے سوال پر جواب دیا کہ ‘3 سے 4 تھپٹر مارے تھے’۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘آپ کو بھی سر عام اسی طرح 4 تھپٹر مارے جائیں گے’۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘ابھی وہ کِلپ چلاتے ہیں اور سب کو عدالت میں دکھاتے ہیں’، جس کے بعدجسٹس ثاقب نثار نے ویڈیو چلانے کے لیے آلات منگوا لیے۔

گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عمران علی شاہ کو کراچی کے علاقے اسٹیڈیم روڈ پر ایک شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

ویڈیو وائرل ہونے اور پی ٹی آئی کی جانب سے شوکاز نوٹس لیے جانے کے بعد عمران علی شاہ کا ایک ویڈیو پیغام بھی منظرعام پر آیا جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے شہری کو اس لیے مارا پیٹا کیوں کہ اس نے ایک غریب موٹرسائیکل سوار کو بار بار اپنی گاڑی سے ہٹ کیا تھا۔

دوسری جانب تشدد کا نشانہ بنانے والے شہری داؤد چوہان نے عمران شاہ کو معاف کردیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق عمران علی شاہ نے داؤد چوہان سے اپنے کیے کی معافی مانگی تھی، جس پر انہوں نے یہ کہہ کر معاف کردیا تھا کہ ‘اگر کوئی میرے گھر پر آئے تو میں اسے خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا’۔

داؤد چوہان کا مزید کہنا ہے کہ عمران علی شاہ کے مقابلے میں، وہ ایک غریب شخص ہیں اور قانونی چارہ جوئی نہیں کرسکتے، لہذا وہ یہ معاملہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر چھوڑتے ہیں۔

بعدازاں 18 اگست کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے عمران علی شاہ کے شہری پر تشدد کا ازخود نوٹس لے لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں