314

عمران خان کا چورن،اور ایشین گیمز کے میڈل

عمران خان کا چورن،اور ایشین گیمز کے میڈل
جکارتہ میں موجود جو شخص بھی ملا اس نے عمران کے طرز حکمرانی اور سادگی اپنانے کی تعریف کی
پاکستان کو دوست ملک اور فخر سے لینے والے جب میڈلز پوچھتے تو تعداد بتاتے آنکھیں شرم سے پانی پانی
جب سے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں جاری ایشین گیمز کی کوریج کیلئے آئے ہیں ہر شخص جسے پاکستان کے نام کا پتہ ہے وہ پاکستان میں آنے والی تبدیلی اور وزیر اعظم عمران خان کے طرز حکمرانی پر بہت خوش نظر آیا اور خاص طور پر جو انہوں نے سادگی اپنانے کی بات کی ہے وہ دنیا بھر میں اتنی مقبول ہوئی ہے کہ ایک ایسا حکمران جو دو گاڑیوں اور دو کمروں کے گھر میں ٹھہرے گا، اور خاص طور پر بھارتی صحافی اور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ جو بھی ملا اس نے وزیر اعظم عمران خان کے اب تک کے اقدامات اور خاص طور حیرانگی سے پتہ چلا جب وزیر اعظم کے قوم سے خطاب اور وکٹر ی تقریر انہوں نے اتنی ازبر سنائی کہ کم از کم میں تو دنگ رہ گیا کہ انہیں کیسے یاد ہے ، وجہ یہ تھی کے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے بڑے ٹی وی چینلوں نے ان تقاریر کو نہ صرف براہ راست دکھایا بلکہ اپنی مقامی زبان کے ترجمعہ کے ساتھ اپنے عوام کو دکھائی گئی یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک عمرا ن کے کا جو چورن تھا وہ بہت اچھے انداز میں بک چکا ہے اور انہیں اب تک ہر شخص نے جو ہمیں ادھر ملا ہے کپتان کی تعریف کرتے ہی ملا ہے لیکن ۔۔۔۔۔
یہ تمام خوشی اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب یہی لوگ جنہیں پتہ ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں ، ہم چار دفعہ کے ہاکی میں اولمپک تین مرتبہ کے ورلڈ چیمپین ہیں، سکواش میں ہماری بادشاہی دہائیوں سے رہی ہے، باقی کھیلوں جس میں کرکٹ بھی شامل ہے میں اچھا پرفارم کرتے رہیںجب وہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان نے ان گیمز میں میڈلز کتنے لیئے ہیں تو جہاں سر شرم سے جھک جاتا ہے وہا ں ندامت کے آنسو بھی چھلک پڑتے ہیں جب انہیں پتا چلتا ہے کہ ۔۔۔۔
ایشین گیمزمیںہمارا دوست ملک چین پہلے،جاپان دوسریاور کوریا تیسرے نمبرپر ،پاکستان کا 40میں سے34واں نمبر ،کمبوڈیا، منگولیا،ویتنام حتی کہ نیپال بھی میڈل ٹیبل پر پاکستا ن سے آگے ہے۔اس ایونٹ میں شامل تمام چالیس ملکوں کی کھیلوں کی کارکردگردگی رپورٹ میڈل ٹیبل کی صورت میں سامنے آگئی ہے جسکے مطابق چین132گولڈ92سلور 65براونز ٹوٹل 289 میڈلز کے ساتھ پہلے۔جاپان 75گولڈ56 سلور 74 براونز ٹوٹل 205 میڈلز کے ساتھ دوسرے،جنوبی کوریا 49گولڈ58سلور77 براونز ٹوٹل 177 میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ میزبان انڈونیشیا کامجموعی طور پر98 میڈلز کے ساتھ چوتھا ایران کا 59میڈلز کے ساتھ پانچواںاور بھارت کا15گولڈ،24 سلور،30 براونزاور مجموعی طور پر69میڈلز کے ساتھ آ ٹھواں نمبر رہا جبکہ میڈلز ٹیبل پرپاکستان ۔بحرین،ویتنام ، قطر، لبنان ، مکاو ، عراق ، ترکمانستان حتی کہ نیپال سے بھی ایک درجہ نیچے یعنی چالیس ممالک میں سے جن 37ممالک نے میڈلز لئے ابن میں سے پاکستان کا 34واں نمبر پرہے، پاکستا ن کے بعد جو آخر میں تین ممالک ہیں ان میں افغانستان میانمر اور شام ہیں پاکستا ن کے حصہ میں صرف چار براونز میڈل ائے ہیں تو شرکم کی انتہا نہیں رہتی ،ان چار میں سے بھی تین میڈلز وہ ہیں جو جس ملے ہی ہیں اس سے آگے کچھ نہیں۔354رکنی پاکستانی دستہ نے اگر کوئی براون میڈل جیتا ہے تو وہ حقیقی میڈل جیولن تھرو میں ارشد ندیم کا ہی ہے۔ کبڈی کا
براونز میڈل بنا کھیلے پاکستان اور بھارت دونوں کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح اسکواش کا میڈل بھی ملائیشیاء سے سیمی فائنل ہارنے پر خود بخود مل گیا ہے اس ایونٹ میں بھی دوسرا میڈل براونز میڈل بھارتی ٹیم کے حصہ میںآیا۔باقی رہا نرگس کا براونز میڈل تو شائد بہت سے لوگوں کو نہیں پتہ کہ نرگس خوش قسمتی سے اچھے ڈراز کی بدولت بنا کوئی مقابلہ لڑے سیمی فائنل میں پہنچ گئیں تھیں جہاں انہیں چینی خاتون کھلاڑی کے ہاتھوں شکست ہوئی انہیں براونز کے لئے نیپالی کھلاڑی سے لڑنا پڑا جس میں وہ ایک فائیٹ ہار کر اور ایک جیت کر براونز میڈلسٹ ٹھہریں ۔یہاں بھی اسی کیٹگری میں براونز کے لئے ایک اور فائیٹ کھیلی گئی جس میں ایرانی کھلاڑی ے ملا ئیشین کھلاڑی کو شکست دے کر نرگس کے ہمراہ براونز میڈل حاصل کیا۔یوں اگر دیکھا جائے تو اس ایونٹ میں کہنے کو پاکستان کے چار لیکن حقیقی طور پر ایک ہی میڈل ہے۔ پاکستانی دستہ ایشین گیمزمیں اس ناقص ترین پرفارمنس کا ذمہ دارکون ہے؟ اس کا تعین ہر صورت ہونا چاہیے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس قومی دستہ کی کو ایشین گیمز میں شرکت کے لئے بھجوانے پر لگ بھگ 20کڑوڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں جو کہ سب کے سب ریاست پاکستان کے خزانہ سے ادا کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کھیلوں کے ساتھ پی اواے اور کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیدان کی جانب جاری پاکستانی کھیلوں کے ساتھ اس گینگ ریپ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہر دفعہ اولمپکس مقابلے ہوں یا ایشین گیمز، کرکٹ کا ورلڈ کپ ہو یا قومی کھیل ہاکی جب بھی کوئی بری کارکردگی سامنے آتی ہے وقتی طور پر طوفان ضرور برپاہوتا ہے لیکن پیالی میں طوفان کے بعد پھر دوبارہ پاکستان کی بدنامی کا سامان تیار کیا جانا شروع ہو جاتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب ملک میں قائم ہونے والی نئی حکومت جو کہ ایک ورلڈ چیمپین کی سربراہی میں قائم ہوئی ہے اور جسکا یجنڈا زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی خوشخالی اور کرپشن کا خاتمہ ہے کو دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح کھیل کے شعبہ میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے پی او اے کی زیر سر پرستی کام کرنے والاسپورٹس مافیا کے گینگز کو توڑنا ہوگا۔ وگرنہ مستقبل میں پاکستان سے کھیلوں کا نام و نشان مٹ جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں