24

ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13ویں صدر منتخب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان کے 13ویں صدر بن گئے۔

انتخاب میں ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر جبکہ ملک کے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دیے۔

دیگر اراکین کی طرح وزیرِاعظم عمران خان بھی صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

نئے صدرِ مملکت کے انتخاب کے لیے 4 ستمبر کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں 432 اراکین میں سے 430 ارکان نے ووٹ دیے جس میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو اراکینِ پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ 212 ووٹ ملے۔

مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمٰن کو 131 ووٹ ملے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن پر صرف 81 پارلیمنٹیرین نے اعتماد کیا۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں 2 ارکان نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا جبکہ 6 ووٹ مستر ہوگئے۔

سندھ اسمبلی میں اعتزاز احسن کو برتری حاصل
سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن سب سے زیادہ ووٹ لے کر آگے ہیں جہاں غیر سرکاری نتیجے کے مطابق انہیں 100 ووٹ ملے۔

ایوان میں 158 ووٹ ڈالے گئے جس میں ایک ووٹ مسترد کردیا گیا، تاہم بقیہ تعداد میں تحریک انصاف کے عارف علوی کو 56 ووٹ ملے اور مولانا فضل الرحمٰن کو صرف ایک ووٹ ہی مل سکا۔

بلوچستان اسمبلی میں عارف علوی آگے
بلوچستان اسمبلی میں 61 میں سے صرف 60 اراکین نے ووٹ ڈالے جس میں پی ٹی آئی کے عارف علوی کو سب سے زیادہ 45 ووٹ ملے۔

مسلم لیگ (ن)، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے حمایت یافتہ مولانا فضل الرحمٰن نے 15 ووٹ لیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کو ایک بھی ووٹ نہیں مل سکا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں عارف علوی کو اکثریت حاصل
حمکراں جماعت تحریک انصاف کے عارف علوی کی خیبرپختونخوا میں اکثریت واضح ہے جہاں انہوں نے 111 ووٹ میں سے 78 ووٹ حاصل کیے۔

112 ارکان میں سے 111 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جس میں مولانا فضل الرحمٰن نے 26 ووٹ لیے جبکہ اعتزاز احسن کو صرف 5 ووٹ ہی مل سکے، اس کے ساتھ ساتھ 2 ووٹ مسترد بھی ہوئے۔

بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجاؤں گا، عارف علوی
انتخاب سے قبل میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لیں گے۔

ڈاکٹر عارف علوی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں، فوٹو ڈان نیوز
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے میں رہے، جس کے بعد امید ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی ووٹ دیں گے‘۔

نامزد صدارتی امیدوار عارف علوی کا کہنا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان میری ترجیحات میں شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اراکین اپنے ضمیر کے مطابق صدارتی امیدوار کو ووٹ دیں۔

اس موقع پر صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ صدر ممنون حسین سے آپ کا کردار کس طرح مختلف ہوگا، تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ ممنون حسین سے پوچھیں یا جب میرا وقت گزر جائے تب اس بارے میں سوال کیا جائے۔

جو جیتا اسے مبارکباد دیں گے، اعتزاز احسن
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور صدارتی امیدوار اعتراز احسن نے کہا ہے کہ جیت اور ہار معنیٰ نہیں، جو جیتے کا اسے مبارک باد دیں گے۔

صدارتی انتخاب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کے ذریعے صدر کا انتخاب ہونے جارہا ہے، جو خوش آئند عمل ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ خوش اسلوبی سے ووٹنگ کے ذریعے انتخابی عمل شفاف ہورہا ہے اور اس حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی متنازع بات نہیں کروں گا، آج خوش خبری ملے گی کہ پاکستان کے نئے صدر کا انتخاب ہوگیا، میرے لیے جیت اور ہار معنیٰ نہیں اور جس کی جیت ہوگی، اسے مبارک باد دیں گے۔

عارف علوی سیاسی ایجنڈے سے واقف ہیں، شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے اپوزیشن جماعتوں میں کوئی ہم آہنگی نہیں جبکہ ان کی جماعت کے صدارتی امیدوارعارف علوی تحریک انصاف کے سیاسی ایجنڈے سے واقف ہیں۔

صدارتی انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل رواں دواں ہے، صدر کے لیے عارف علوی سب سے بہتر امیدوار ہیں کیونکہ وہ وفاق کی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مشکلات ہیں لیکن ہم آگے بڑھیں گے اور جمہوریت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اپوزیشن کا احترم کریں گے۔

صدارتی انتخاب کی تیاری
الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پانچوں پریزائیڈنگ افسران کو ایک روز قبل ہی رائے دہندگان کی فہرستیں فراہم کردی گئیں تھی، جبکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کرکے بیلٹ پیپرز بھی پہنچادیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ’فضل الرحمٰن صدر اور عمران خان وزیر اعظم ہوں، تبدیلی تو یہ ہوگی‘

خیال رہے کہ تمام ایوانوں میں اراکین کی کل تعداد 11 سو 74 ہے تاہم کچھ حلقوں میں انتخابات ملتوی ہونے یا حلف نہ لینے کی وجہ سے صرف 11 سو 21 ارکین حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔

آئندہ 5 سال کے لیے صدرِ مملکت کے انتخاب کا عمل آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت عمل میں لایا جائے گا، جبکہ صدارتی امیدوار کی کم سے کم عمر 45 سال ہونا بھی ضروری ہے۔

بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں موجودہ ووٹوں کی تعداد 62 ہے، 124 رکنی خیبر پختونخوا اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 112 ہے۔

اسی طرح 168 رکنی سندھ اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 163 جبکہ 371 رکنی پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 354 ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن صدارتی انتخابات سے دستبردار نہیں ہوں گے، رانا تنویر

قومی اسمبلی اور سینٹ کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے باہر رائے دہندگان کے لیے ہدایت نامہ بھی آویزاں کردیا گیا ہے جبکہ اراکینِ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اپنا ووٹ ڈالیں سکیں گے۔

صدارتی انتخاب کے لیے آئیڈیل الیکٹورل کالج کیا ہے؟
صدارتی انتخاب سے متعلق آئین میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے تمام اراکین کا ایک ایک ووٹ ہوگا لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں کا ووٹ، ملک میں ارکان کی تعداد کے لحاظ سے سب سے چھوٹی صوبائی اسمبلی یعنی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد کے برابر تصور کیا جائے گا۔

یعنی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد 65 ہے تو باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں کے کل ووٹ بھی 65 ہی شمار ہوں گے۔

اس کے لیے طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ پنجاب اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 371 کو بلوچستان اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 65 سے تقسیم کیا جائے گا اور یوں پنجاب اسمبلی میں 5.70 ارکان کا ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔

سندھ اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 168 کو بلوچستان اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 65 سے تقسیم کیا جائے گا اور یوں سندھ اسمبلی میں 2.58 ارکان کا ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے 6 منتخب ایوان کس طرح نئے صدر کا انتخاب کرتے ہیں؟

خیبرپختونخوا اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 124 کو بلوچستان اسمبلی کی کُل نشستوں کی تعداد 65 سے تقسیم کیا جائے گا اور یوں خیبر پختونخوا اسمبلی میں 1.90 ارکان کا ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔

بلوچستان اسمبلی کے کُل ارکان کی تعداد 65 ہے اس لیے یہاں ہر رکن کا ایک ووٹ تصور ہوگا۔ باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں میں مذکورہ فارمولے کے استعمال کرنے کے بعد ان تینوں صوبائی اسمبلیوں کے اپنے اپنے کُل ووٹوں کی تعداد بھی 65 ہی ہوگی۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صدارتی انتخاب میں کُل ووٹوں کی تعداد، قومی اسمبلی کے 342، سینیٹ کے 104 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 260 ووٹوں (65 ضرب 4) کو ملا کر ووٹوں کی کُل تعداد 706 بنے گی۔

صدارتی انتخاب میں ون ٹو ون مقابلے کی صورت میں جیتنے والے امیدوار کے لیے 354 ووٹ لینا لازم ہے گویا کہ 354 ایک آئیڈیل وننگ گولڈن نمبر ہوگا۔

صدارتی امیدواروں کی صورتحال
صدارتی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی کو نامزد کیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر تقسیم کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سینئر رہنما اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو منانے کی کوششیں کیں، تاہم دونوں ہی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے صدر کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات میں یقین دہائی کرائی ہے کہ ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی کی حمایت کرے گی۔

واضح رہے کہ ملک کے 12ویں صدر مملکت ممنون حسین کے عہدے کی میعاد رواں ماہ 9 ستمبر کو ختم ہورہی ہے تاہم نئے صدر کے لیے انتخاب 4 سمتبر کو منعقد کیے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں