19

بیرون ملک اثاثوں کی واپسی کیلئے ٹاسک فورس تشکیل

اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بیرون ملک اثاثوں کی واپسی کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ باہر سے پیسے واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کی گئی اور اثاثوں کی ریکوری کے لیے وزیر اعظم ہاؤس میں یونٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ رقوم کی واپسی کے لیے قانون سازی بھی کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک غیر قانونی جائیداد کی نشاندہی کرنے والے کو 20 فیصد حصہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘کابینہ نے تعلیم، صحت اور صفائی کے منصوبوں پر خصوصی بات کی، تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس سمیت تمام اسکولوں میں یکساں بنیادی نصاب تعلیم رائج کیا جائے گا اور نجی اسکولوں کی فیسوں کو بھی مناسب سطح پر لایا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اسکولوں میں جسمانی سزاؤں پر پابندی کی بھی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بچوں سے زیادتی اور جبری مشقت پر پابندی کے اقدامات کی بھی منظوری دی ہے، جبکہ اسٹریٹ چلڈرن اور خواتین کے لیے سینٹر بنائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے تمام صوابدیدی فنڈز ختم کر دیئے گئے ہیں اور اور صوابدیدی فنڈز واپس کرنے سے خزانے کو 80 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوابدیدی فنڈز ختم ہونے کے بعد سابق لیپ ٹاپ اسکیم سمیت وزیر اعظم نواز شریف کے شروع کردہ متعدد منصوبے بھی ختم ہوگئے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے تقریباً 3 ہزار شہری ایران میں قید ہے جنہیں سزائے موت سنائی گئی ہے، تاہم پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ خوش آئند بات نے ایران نے حال ہی میں اپنے انسداد منشیات کے قانون میں ترمیم کی ہے جس میں سزاؤں میں نرمی کی گئی ہے، جس سے سزائے موت کے کئی پاکستانی قیدیوں کو اس سے ریلیف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایران کے وزیر خارجہ سے بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور اب پاکستانی سفارتخانہ، ایران کے پراسیکیوٹر جنرل سے اس حوالے سے رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس میں احتساب کا خصوصی سیل بنادیا گیا ہے، ملکی دولت لوٹ کر باہر منتقل کرنے والے 100 بڑے ناموں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے، جن کے خلاف اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے ایک احتساب کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں نیب، ایف آئی اے اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی تمام شواہد اکٹھا کرکے ان 100 ناموں کو جلد منظر عام پر لائے گی اور تین ماہ میں ٹھوس شواہد کے ساتھ نیب کو کیسز بھجوائے گی۔

‘اقلیتوں کا تحفظ اسلامی ریاست کا فرض ہے’
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کا حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں ساتھ لے کر چلے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، ہم نے جس بنیاد پر آزادی حاصل کی کیا اس بنیاد کو رد کر دیں، نبی ﷺ بھی اقلیتوں کے تحفظ کا درس دیا، ہم مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں جہاں اسلام کا مطلب سلامتی، امن اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔’

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی فواد چوہدری نے وزیر اعظم کے مالیاتی کونسل کے مشیر میاں عاطف کی تقرری کا دفاع کیا تھا، جن کے خلاف آن لائن مہم چلائی جارہی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا پاکستان جتنا اکثریت کا ملک ہے اتنا ہی اقلیتوں کا بھی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان میں اقلیتوں کے کردار پر پابندی عائد کردینی چاہیے؟ کیا پاکستان میں اقلیتوں کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک دیا جائے؟

انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کس قسم کے لوگ ایسی باتیں کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاطف میاں وہ شخص ہیں جن سے متعلق کہا جارہاہے کہ وہ آئندہ پانچ سال میں امن کا نوبل اعزاز جیتے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں عاطف کو مالیاتی مشاورتی کونسل کا رکن تعینات کیا گیا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل یا کسی اور شعبے کا رکن مقرر نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں عاطف میاں کی مالیاتی مشاورتی کونسل میں تعیناتی کے خلاف ایک توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کروایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں