35

بیماریوں سے لڑنے کےلیے اینٹی بایوٹکس کی ہزاروں نئی ’کاک ٹیل‘

لاس اینجلس: پوری دنیا میں کئی امراض کے جراثیم تیزی سے تبدیل ہوکر اینٹی بایوٹکس کی صورت میں موجود ہمارے ادویاتی اسلحے خانے کو بیکار بنارہے ہیں جس کے بعد نئی اینٹی بایوٹکس کی تلاش شدت سے جاری ہے لیکن اس سست عمل میں ہمارے ہاتھوں میں موجودہ اینٹی بایوٹکس کے مختلف مجموعوں سے بھی تیز کرکے بیماریوں کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یوسی ایل اے) کے ماہرین نے ایک وقت میں چار سے پانچ دواؤں کو باہم ملایا اور ان کے 8000 سے زائد مجموعے نوٹ کیے تو معلوم ہوا کہ جراثیم کے مزید ہوشیار اور ڈھیٹ ہونے سے قبل یہ مجموعے اینٹی بایوٹکس کا کام مؤثر انداز میں کرسکیں گے۔

ماہرین نے پہلے سے موجود اینٹی بایوٹکس کو مختلف انداز میں ملاکر ان کی آزمائش کی اور انہیں کئی امراض کے جراثیم کے مقابلے میں مؤثر پایا ہے۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کیونکہ دواؤں کو باہم ملانے سے اکثر ان کی تاثیر کم ہوجاتی ہے لیکن اینٹی بایوٹکس کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

تحقیقی رکن پامیلا ییح نے کہا کہ عموماً ایک یا دو دواؤں کو باہم ملایا جاتا ہے لیکن ہم نے کئی دواؤں کو ملاکر ہزاروں ممکنہ ’کاک ٹیل اینٹی بایوٹکس‘ پر کام کیا۔ اس طرح دواؤں کی مقدار کم اور زیادہ کرکے 18 ہزار سے زائد علیحدہ علیحدہ مجموعوں کو باریک بینی سے آزمایا گیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جب چار(اینٹی بایوٹکس) دواؤں کو ملایا گیا تو اس کے 1,676 مجموعوں نے مشہور ای کولائی بیکٹیریا سے لڑنے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

موازنے کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ چار ادویہ کے 2,331 مجموعے اور پانچ اینٹی بایوٹکس کے 5,199 مجموعے انفیکشن سے لڑنے میں قدرے کمزور واقع ہوئے۔ وجہ یہ ہے کہ مختلف ادویہ ای کولائی سے مختلف انداز میں لڑتی ہیں۔ کوئی دوا جرثومے کی خلوی دیوار پر ضرب لگاتی ہے تو دوسری اس کے ڈی این اے پر حملہ آور ہوتی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ انسانوں پر ان کی آزمائش ابھی بہت دور ہے کیونکہ یہ تجربات صرف تجربہ گاہوں میں جراثیم پر ہی کئے گئے ہیں اور وہ بھی صرف ایک قسم کے بیکٹیریا یعنی ای کولائی پر آزمائے گئے ہیں۔ تاہم اس تحقیق سے یہ بات غلط ضرور ثابت ہوئی کہ اینٹی بایوٹکس دواؤں کے مجموعے بے کار ہوں گے کیونکہ ہزاروں مفید کاک ٹیل کی افادیت واضح طور پر سامنے آچکی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں