20

پاکستانی حکومت کا چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِ ثانی پر غور

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِ ثانی پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں سی پیک معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان منصوبوں اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن زیر غور ہیں۔

اس حوالے سے ماہرِ معاشیات اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام سی پیک منصوبوں پر ایک سال کے لیے عمل روک دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے ازسرِ نو کیے جائیں گے، جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے اور پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔

عبدالرزاق داؤد کے مطابق ‘گزشتہ حکومت نے سی پیک پر چین کے ساتھ بہتر طور پر مذاکرات نہیں کیے، انہوں نے اپنا ہوم ورک صحیح سے نہیں کیا اور درست طرح سے مذاکرات نہیں کیے’۔

دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار کو سست کرنا نواز شریف کی سابق حکومت کی پالیسی کے برعکس ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں