8

سندھ ہائیکورٹ کا سانحہ 12 مئی کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ 12 مئی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سانحہ 12 مئی 2017 سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹریبونل بھی بنانے کا حکم دیا۔

عدالت نے فیصلے میں سندھ حکومت دو ہفتے میں عملدر آمد کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جب کہ عدالت نے اے کلاس کے تحت ختم کیے گئے 65 مقدمات دوبارہ کھولنے کا بھی حکم دیا۔

دو رکنی بینچ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ان مقدمات کی مانیٹرنگ کے لیے جج بھی مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ 12 مئی کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

کراچی: چیف جسٹس نے سانحہ 12 مئی کیس کی فائل طلب کرلی

یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے 12 مئی 2018 کو ہائیکورٹ کو تین ماہ میں مقدمہ نمٹانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد عدالت نے فریقین کے وکلا سمیت عدالتی معاونین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار اقبال کاظمی نے تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی استدعا کی جب کہ وفاق اور عدالتی معاونین نے بھی کمیشن بنانے کے حق میں دلائل دیے تاہم سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن بنانے کی مخالفت کی تھی۔

سانحہ 12 مئی کا پس منظر

12 مئی 2007 کو وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی اور اُس وقت کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی آرہے تھے کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔

معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد پر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان استقبال کے لیے نکلے اور کئی مقامات پر اُس وقت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں مسلح تصادم شروع ہوا۔

سانحہ 12 مئی کو گیارہ برس بیت گئے، خون آشام دن کی تلخ یادیں آج بھی تازہ

شہر کی کئی شاہراہوں پر اسلحے کا آزادانہ استعمال دیکھنے میں آیا اور خون ریزی میں وکلاء سمیت 48 افراد دن دہاڑے قتل کردیئے گئے۔

ان واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کی گئیں جس کے بعد شہر کے مختلف تھانوں میں ان افراد کے قتل کے 7 مقدمات درج ہوئے۔

تقریباً 20 ماہ قبل پولیس نے ساتوں مقدمات کے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جمع کرائے، جس میں اُس وقت کے مشیر داخلہ اور موجودہ میئر کراچی وسیم اختر اور رکن سندھ اسممبلی کامران فاروق سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔

یہ تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہیں اور مقدمات میں 20 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں