96

قاضی تیرا انصاف کس کس پر بھاری

اے ڈی خواجہ ہوں یا محمد طاہر،رضوان گوندل ہوں کہ سکھیرا یا پھر جان محمد چیف سب کو لے ڈوبے

قانون کی حکمرانی کے چکر میں تمام افسروں کے مستقبل سے بھی کھیل گئے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا

آج کل سب سے اہم خبر جو گرم ہے وہ سپریم کورٹ کا حکومت کی جانب سے تبدیل کئے گئے آئی جی اسلام آباد پر از خود نوٹس ہے پتہ نہیں یہ نوٹس اسرائیلی طیارے سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی یا پھر شہباز شریف کے پیرول پر رہائی کی خبروں کو دبانا لیکن ایک بات طے شدہ ہے کہ ایک اور اچھے افسر کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ سب کو یاد ہے کہ جان محمد سمیت جس جس افسر کے تبادلے کے احکامات منسوخ کئے گئے ان کا مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریک گلی میں چلا گیا ہے ۔عموما دیکھا گیا ہے کہ جو بھی افسر گریڈ بائیس تک پہنچتا ہے اس کی عمر پچپن سال کے قریب ہوتی ہے اور اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر قریب ہو جاتی ہے لیکن ایسے اقدامات سے افسروں کی نیک نامی کی بجائے گم نامی میں گھر جانا بھی ایک رواج بنتا جا رہا ہے ۔ اگر کسی کو یاد ہو تو سندھ حکومت نے آی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل کیا تو سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا اور اے ڈی خواجہ کو بحال کر دیا لیکن پھر اے ڈی خواجہ کو جتنی دیر بھی وہ رہے وہ کام نہیں کر سکے اور متنازعہ ہو گئے اور پھر ایک دن انہیں چارج چھوڑنا ہی پڑا ۔۔

اور پھر سب نے دیکھا کہ کس طرح ضمنی انتخاب سے قبل جب آئی جی پنجاب محمد طاہر کو تبدیل کیا گیا تو پھر الیکشن کمیشن اور عدالتیں آڑے آ گئیں اور پھر آئی جی پنجاب محمد طاہر کو تبدیل ہونا ہی پڑا اور پھر وہ گم نام ہو گئے ، رضوان گوندل کے تبادلے پر بھی ایسا ہی ہوا اور سابق سیکریٹر ی احمد نواز سکھیراکے تبادلے کو بھی سپریم کورٹ نے ہی روکا اور پھر انہیں چیف سیکریٹر ی پنجاب کا لالچ دیا گیا تو انہوں نے خود ہی سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ انہیں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ تبدیل کیا جائے حکومت جہاں مرضی مجھے بجھوائے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور پھر احمد نواز سکھیرا بھی محسوس ہو رہا ہے کہ گمنامی میں ہی اپنی نوکری سے ریٹائیر ہو جائینگے اب ایک اچھے افسر جان محمد کے ساتھ بھی ایسا ہی حال بھی ایسے ہی ہونے جا رہا ہے پتہ نہیں یہ ایک حادثہ ہے یا پھر حسن اتفاق کہ جس افسر کو عدالت اپنی طرف سے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے نام پر عزت دلاتی ہے وہ افسر متنازعہ ہو کر کھڈے لائن لگ جاتا ہے ۔

پتہ نہیں یہ پیغام کس کو دیا جا رہا ہے کہ جس افسر نے بھی حکمرانوں کی بات نہ مانی اس کا مستقبل اسی طرح سے تاریک ہو گا یا پھر بیورکریسی کی طاقت کو اور حکومت کے خلاف ایکا کرنے والے بیورکریسی کے اس گروپ کو پیغام
دیا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس آپ کی طاقت کا بھی توڑ ہے ۔ اللہ کرے یہ ہمارا اندیشہ ہو لیکن اب تک کی صورتحال سے محسوس ہو رہا ہے کہ بظاہر جس افسر کو عدالتیں اپنی جانب سے عزت اور قانون کی حکمرانی کاکہہ کر روکتی ہیں اس کا مستقبل تاریک ہی ہوتا جا رہا ہے اب تک کے فیصلوں کے مطابق۔۔۔

ورنہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اگر کسی افسر کو اس طرح تبدیل یا کھڈے لائن لگایا جا تا ہے وہ اپنا معاملات کسی نہ کسی وجہ سے ٹھیک بھی کر سکتا تھا یا اسے دوبارہ اچھی پوسٹنگ بھی مل سکتی تھی لیکن جس افسر کو کسی بھی حکومت کے آغاز پر ہی متنازعہ بنا دیا جائے تو وہ کم از کم ان کے دورہ اقتدار میں اچھی پوسٹنگ پر کبھی نہیں آیا ۔ اس طرح پتہ نہیں یہ نادان دوست ہیں یا پھر عقل مند دشمن لیکن اچھے افسرو ں کو کوئی بھی ایسے فیصلو ں سے
کھڈئے لائن لگنے سے یا ان کا مستقبل تاریک یا گمنامی میں جانے سے کوئی نہیں روک پا ررہا اللہ کرے یہ ہمارا وہم ہو کہ عدالتیں قانون کی حکمرانی کے لئے کام کر رہی ہیں لیکن ایسے اقدامات سے ان کے کھڈے لائن لگنے پر مہر ضرور لگ رہی ہے ، آگے آگے دیکھتے ہیں باری کس کی آتی ہے۔اللہ خیر کرے ہمارا وہم وہم ہی رہے اور قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہی ہوتا رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں