115

سارے مسلمان کافر لیکن عاشق رسول

سارے مسلمان کافر لیکن عاشق رسول ۖ
جس ملک کے سیاستدان پاکستانیت کی بجائے پنجابی ، پٹھان، بلوچستان، سندھی ، مہاجرکے نام سے ووٹ مانگیں
علمائے کرام مدارس ، مساجد میں سنی ، دیوبندی، وہابی ،شیعہ کی تعلیم اورایک دوسرے کو کافر، مشرک ،بدعتی کہیں
اس ملک کے 22کروڑ کے ہجوم کو ایک لیڈر اور اسے صرف قوم بننے کا انتظارہے پھر سب مسلمان اور پاکستانی ہونگے
1940میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تو ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کے لئے صرف ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ ال اللہ لیکن قیام پاکستان کے بعد ہی اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے جس ملک کے سیاستدان پاکستانیت کی بجائے پنجابی ، پٹھان، بلوچستان، سندھی ، مہاجرکے نام سے ووٹ مانگتے ہوں،اسی ملک کے علمائے کرام مدارس ، مساجد میں مسلمانیت کی بجائے سنی ، دیوبندی، وہابی شیعہ کے نام سے تعلیم دیتے ہوں ، ہر فرقہ دوسرے کو کافر، مشرک ،بدعتی کہتا ہو، ہر امتی صرف اپنے آپ کو عاشق رسول ۖ سمجھتا ہو، ہر بندے کی اپنی عدالت ہو،جس ملک کا قاضی وقت اور سپہ سالار اپنے آپ کو سچا مسلمان ثابت کرنے کے لئے کوششیں کرے ،مملکت خداد اد کے سارے باسی جہاں سچے عاشق رسول ڑۖ کہلاتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو کافر بھی کہتے ہوں ،اس ملک کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے کتنی قربانیں صرف اس لئے دی گئی تھیں ، اس سلسلہ میں صرف ایک واقعہ عرض کرتا ہوں کہ تقسیم سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے پرتاب نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،یک دن پرتاب نے سرخی لگا دی :کہ مسلمان سارے کافر ہیں۔۔۔لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور مجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا نے ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے !اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور چیف ایڈیٹر ہوں تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ہے!آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟جی جب یہ جرم ہے ہی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ہوں، مجھے تو خود مسلمانوں نے ھی بتایا ہے جو میں نے چھاپ دیا ہے ! صبح ہوتی ہے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ہوتے ہیں کہ سامنے والی مسجد واالے کافر ہیں، وہ ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں تو عشا تک ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ فلاں مسجد والے کافر ہیں اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ہیں کہ میں تو قائل ہو گیا کہ یہ واقعی کافر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی بس اگلی تاریخ پر فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ھی تاریخ میں حل ہو جائے گا !اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا، باری باری کٹہرے میں طلب کیا گیا۔ مجمعے میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ سنی دیوبندی ، اہل حدیث اور الگ الگ کھڑے ہوں !سنی مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندوں اور اھل حدیثوں کے بارے میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا ؟مولوی نے کہا کہ یہ دونوں توہینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں ! پھر اس نے دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ہو گیا، جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر اہل حدیثوں اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باہر تشریف لے جائیں !اس کے بعد دیوبندی اور اہلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواہی کے لئے کہا گیا، دونوں نے سنیوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا ! گواہی کے بعد میجسٹریٹ نے سنیوں کوکو بھی عدالت سے باھر بھیج دیا !اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ میجسٹریٹ صاحب اپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دھل کہتے بھی ھیں اور کافر ہو کر عدالت سے نکل بھی گئے ہیں اب عدالت میں جو لوگ بچتے ہیں ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں،، لہذا یہ بھی کافروں میں سے ہی ہیں ! باقی جو مسلمان بچا ہے اسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے !میجسٹریٹ نے کیس خارج کر دیا اور..پرتاب کو بری کر دیا نیز پرتاب اخبار کو دوبارہ بحال کر دیا !!یہ دھندا تقسیم ہند کے ستر سال بعد بھی جاری و ساری ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں کیونکہ سب سیاستدانوں اور مولویوں کی دوکانداری چل رہی ہے لیکن امید قوی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی سیاستدان پاکستانیت کا اور کوئی مولوی صرف اسلام اور مسلمان ہونے کا نعرہ لگائے گا اور وہ وقت دور نہیں صرف ہجوم کے قوم ہونے کا انتظار ہے اللہ کرے پاکستان کا یہ ہجوم جلد قوم بن جائے اور اسے کوئی اچھا لیڈر مل جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں