8

‘آسیہ بی بی کا نام جرم ثابت ہونے تک ای سی ایل میں نہیں ڈالا جاسکتا’

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کا نام ان پر جرم ثابت ہونے تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘وائس آف امریکا’ کو انٹرویو کے دوران شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘جب تک آسیہ بی بی کو کسی الزام میں مجرم قرار نہ دیا جائے یا اس ضمن میں کوئی عدالتی حکم نہ ہو، اس وقت تک ان کا نام ای سی ایل میں کسی صورت نہیں ڈالا جاسکتا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل ہر کسی کا قانونی اور شرعی حق ہے اور اپیل پر عدالت عظمیٰ جو حکم دے گی اس پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک کوئی مجرم قرار نہ دیا جائے اور کوئی قانونی جواز نہ ہو، اس وقت تک ای سی ایل میں کیسے نام شامل ہوگا، اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘آسیہ بی بی اور ان کا خاندان تاحال پاکستان میں ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ غلط ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر پاکستانی خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک یا مذہب سے ہو وہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور پاکستان میں کسی کو جان و مال سے کھیلنے یا اپنی شرائط مسلط کروانے کے لیے لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔‘

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے بعد مذہبی جماعت تحریک لیبک پاکستان (ٹی ایل پی) کا ملک بھر ہونے والا احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے ان کے ساتھ 5 نکاتی معاہدہ کیا تھا۔

معاہدے کے تحت آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ‘ای سی ایل’ میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی کہا تھا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، لیکن ان کا نام ای سی ایل میں قانونی طریقے سے ڈالا جائے گا جس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے مقدمات زیرسماعت ہیں اور عدالت ازخود کہتی ہے کہ فلاں کو ای سی ایل میں ڈالا جائے جس کی ہم پیروی کریں گے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں