8

’آسیہ بی بی کے ملک چھوڑ جانے کی خبر انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ‘

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی آسیہ بی بی کے ملک سے باہر جانے کی خبروں کی تردید کر دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہیڈلائنز بنانے کے لیے جعلی خبروں کی اشاعت وطیرہ بن گیا ہے۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے حوالے سے پھیلی خبروں کے ردعمل میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا کیس بہت حساس معاملہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کے ملک چھوڑ جانے کی خبر انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، میڈیا کے ایک حصے سے کہتا ہوں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

واضح رہے ترجمان دفتر خارجہ بھی آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد بیرونِ ملک روانگی کی خبروں کی تردید کرچکے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

خیال رہے گزشتہ رات توہینِ مذہب کے الزام میں سپریم کورٹ سے رہائی پانے والی آسیہ بی بی کو خواتین کی ملتان جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد انہیں خصوصی طیارے میں سوار کروا کر اسلام آباد پہنچایا گیا اور بعدا ازاں سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

آسیہ بی بی کی رہائی کی خبریں آنے کے بعد بہت سے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا انہیں بیرونِ ملک روانہ کردیا گیا ہے۔

آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ
31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے 57 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الگ اضافی نوٹ تحریر کیا۔

عدالت کی جانب سے دیے گئے تحریری فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا گیا جبکہ اس میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا۔

چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے میں کہا کہ’ یہ قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ دعویٰ کرنے والے کو الزامات ثابت کرنے ہوتے ہیں، لہٰذا یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران شک کے بجائے ملزم پر الزمات ثابت کرے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ’ ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک استغاثہ ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر مدعی کی جانب سے ملزم پر لگائے گئے الزمات پرعدالت کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا‘۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرمانہ مقدمات میں’ شک و شبہ سے بالاتر ثبوت‘ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ ان اصولوں میں سے ایک ہے، جس میں ’اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی جائے‘۔

چیف جسٹس نے فیصلے میں مزید کہا کہ ’ مدعی کی جانب سے مبینہ توہین مذہب کے الزام میں پیش کردہ ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ استغاثہ شک و شبہ سے بالاتر ثبوت پیش کرنے میں یکسر ناکام رہا‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اگر گواہان کا رویہ معاندانہ تھا تو اس کا فائدہ ملزمہ کو ملے گا اور شک کبھی ثبوت کے متبادل نہیں ہوسکتا‘۔

بعدازاں سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس کا سامنا کرنے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے حکم کے بعد کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا تھا۔

جس کے بعد حکومت اور مظاہرین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت مذہبی جماعتوں نے آسیہ بی بی کو باہر جانے سے روکنے کی یقین دہانی اور نظر ثانی اپیل دائر کرنے پر احتجاج ختم کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں