8

حکومت مذہبی جماعتوں کے قائدین سے ’این آر او‘ کر رہی ہے، آصف زرداری

سابق صدرِ مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات سے لگ رہا ہے کہ دھرنے کرنے والی مذہبی جماعتوں کے قائدین سے این آر او کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار سابق صدر نے خیر پور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان سے این آر او مانگا جارہا ہے جس پر آصف علی زرادری نے جواب دیا کہ جن لوگوں نے ریاست مخالف تقاریر کیں انہیں چھوڑ کر غریبوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جو ایک طرح سے این آر او ہی ہے۔

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مذاکرات سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے پیچھے یا پھر عالمی مالیاتی ادارے کے پاس نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی کیپیٹل مارکیٹ کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ کسی دوسرے کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کو مضبوط کرنا ممکن ہے۔

جب آصف علی زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سندھ کے عوام کو ریلیف دے رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’وفاقی حکومت ہمیں صرف ہماری ہی قسطیں دے دے وہی ہمارے لیے بہت ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سندھ کے عوام کو جتنا ممکن ہوسکتا ہے ریلیف دیتے رہتے ہیں، لیکن وفاقی حکومت صوبے کے بجٹ کو ہمیشہ کم کرتی رہی ہے۔

سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی سے متعلق سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ کے قائدین میڈیا پر آنے سے گریز کر رہے ہیں، کیا یہ کسی ڈیل کا نیتجہ ہے جس پر سابق صدر نے کہا کہ ’یہ شاید ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سیاست میں ماحول گرم کیا جاتا ہے اور ٹھنڈا بھی کیا جاتا ہے‘۔

پریس کانفرنس کے دوران پی پی پی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ ملک میں ایسے حالات ہوگئے ہیں کہ کوئی بیوروکریٹ موجودہ حالات میں کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سابق صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ’بھاشا ڈیم کی تعمیر سے متعلق امکانات بنائے، آج بھاشا ڈیم سب کی سوچ میں ہے۔

اس دوران انہوں نے منظور وسان کے خواب کا تذکرہ بھی کردیا اور کہا کہ ’ وسان صاحب کا خواب کہتا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی‘۔

وزیرِاعظم عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیشہ یوٹرن لیا، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں