9

’عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘

اسلام آباد: دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے امریکا سے بات ہوئی ہے لیکن ان کی رہائی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ ایک جذباتی معاملہ ہے، اسے خفیہ پردے میں نہیں اٹھایا گیا، اس حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہیں لیکن ابھی بتائی نہیں جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق جب فیصلہ نہیں ہوا تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کب تک رہائی ہوگی۔

ترجمان نے بتایا کہ 5 پاکستانی سیف اللہ پراچہ،ماجد خان،عبدل ربانی، عمار البلوشی،غلام ربانی گوانتاناموبے جیل میں قید ہیں، جن کی رہائی کے لیے امریکا سے بات چیت جاری ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکا میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے وزیر اعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی رہائی میں مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس معاملے کے بعد دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا تھا اور بتایا تھا کہ پاکستانی حکومت، امریکا کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ تواتر سے اٹھاتی رہی ہے اور ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے باقاعدہ ملاقات بھی ہوتی ہے تاکہ ان کی خیریت دریافت کی جاسکے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کے تمام انسانی اور قانونی حقوق کے احترام کا معاملہ 6 نومبر کو امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے سامنے بھی اٹھایا گیا، جس پر امریکی وفد کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

وزیر اعظم کے دورہ چین سے تعلقات مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی
ہفتہ وار بریفنگ میں ڈاکٹر محمد فیصل نے وزیر اعظم کے دورہ چین کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان نے چین کے وزیر اعظم کی دعوت پر وہاں کا دورہ کیا اور اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کے ہمراہ چین کا سرکاری دورہ کیا تھا۔

اس دورے کے دوران وزیر اعظم نے چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے تھے اور 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔

برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ خوش آئند
بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض فوج نے 19 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ خوش آئند ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ برطانوی پالیمانی گروپ نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی جارحیت اور سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی تھی۔

مذکورہ گروپ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ’کالے قوانین‘ کا حوالے دے کر کہا گیا تھا کہ ان قوانین کی آڑ میں کشمیر میں بھارتی قابض فوج انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے۔

آسیہ بی بی آزاد شہری، نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں
ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران توہین مذہب کیس میں رہا ہونے والی آسیہ بی بی کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ آسیہ بی بی محفوظ جگہ پر پاکستان میں موجود ہیں،میڈیا اس طرح کی خبروں کو دینے سے پہلے تصدیق کرلیا کرے۔

ترجمان نے کہا کہ آسیہ بی بی اب آزاد شہری ہیں، وہ عدالتی فیصلے بعد جہاں جانا چاہتی ہیں جاسکتی ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے خلاف نظرثانی کی درخواست عدالت میں ہے، قانونی طور پر اگر ان کو باہر جانے سے روکا جاسکتا ہے تو وزارت قانون یا داخلہ بتا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے آسیہ بی بی کی ملتان جیل سے رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا تھا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوارن ڈاکٹر محمد فیصل نے امریکی سفیر اور ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کے حوالے سے بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ایلس ویلز سے وفود کی سطح پر بات کے دوران پاک امریکا دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ سے امریکی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں