18

قائدِ حزبِ اختلاف نیب میں آسکتے ہیں تو وزیراعظم بھی قانون سے بالاتر نہیں، چیئرمین نیب

لاہور: چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اگر قائد قائد حزب اختلاف نیب کاسامنا کرسکتاہے تو قائد حزب اقتدار کو بھی کوئی ایسااستحقاق حاصل نہیں کہ وہ نیب کاسامنا نہ کریں۔

لاہورمیں نیب ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ چینلوں اور اخباروں میں ہیڈ لائن تھی کہ نیب نے وزیراعظم کی توہین کردی، بہت سادہ لوگ ہیں جنہوں نے لفظ توہین استعما ل کیا، یہ وزیراعظم کی توقیر اورعزت ہے کہ ان کا نام نیب میں ظاہرکیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر قائدِحزبِ اختلاف نیب کاسامنا کرسکتے ہیں تو قائد حزب اقتدار کو بھی کوئی ایسااستحقاق حاصل نہیں کہ وہ نیب کاسامنا نہ کریں، اگر قائد حزب اختلاف نیب میں آسکتے ہیں تو پھر وزیراعظم کیوں نہیں آسکتے، اس سے وزیراعظم کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے کہ وہ بھی قانون سے بالاتر نہیں، پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور آئین پر عملدرآمد کیا جارہا ہے، عالمی سطح پر اب یہ بھی تاثر ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے مینڈیٹ تھا کہ وہ ملک سے بدعنوانی ختم کریں گے یہ اس کےلئے پہلا قدم ہے جس طرف ہم بڑھے ہیں، میں نے پہلے روز کہا تھا کہ ہم نے اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کرنا ہے اور میں دوباہ کہہ رہا ہوں اس سے وزیراعظم کی توقیر اور قد و کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے، اس سے پاکستان میں ہی نہیں بین الاقوامی طور پر بھی پاکستان کی عزت ہوئی کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے ا ور قانون کی عملداری پر کام ہورہا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب انتقام پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ذاتی جائیداد کے لئے کسی سے انتقام لے رہا ہے، یہ کہنا بھی درست نہیں کہ نیب کا جھکاؤ کسی پارٹی یا حزب اقتدار کے ساتھ ہے، حزب اقتدار سے نیب پر کوئی دباؤ نہیں، اگر کبھی دباؤ آیا بھی تو نیب دباؤ کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا، نیب کی وفاداری صرف پاکستان کے ساتھ ہے، اگر پاکستان سے متعلق بات آئے گی تو نیب اپنا کردار اداکرے گا۔

چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے حزب اقتدار کو حزب اختلاف پر کسی قسم کی ترجیح دی ہو، ہمارے لئے تمام سیاستدان چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں برابر ہیں، حزب اختلاف کو یہ ضرورکہوں گا کہ انہیں کچھ باذوق ہونا چاہئے، نیب کو منشاء بم سے تشبیہ نہیں دی جانی چاہئے، نیب کبھی منشاء بم تھا اورنہ کبھی ہوگا، آپ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ نیب ہائیڈروجن اور نائیٹروجن بم ہے جو صرف بدعنوانی کے خاتمے کےلئے آیا ہے۔

جسٹس(ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کااحتساب تو اسی دن شروع ہوجاتا ہے جب کوئی کیس احتساب عدالت میں دائر کر دیا جاتا ہے، ریمانڈ ہم نہیں لیتے ریمانڈ عدالت دیتی ہے اور اس کے لئے تمام ریکارڈ دیکھا جاتا ہے، ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی کارروائی ہوتی ہے تمام شہادتیں دیکھنے کے بعد کیس چلتا ہے، ہمارے ہاں ایسی کوئی بات نہیں جس میں انتقام یا زیادتی کا معاملہ پایا جاتا ہو، عدالتیں ہیں، ہائیکورٹ ہے سپریم کورٹ ہے، نیب کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرتا، نیب کا ایک قانون ہے جس کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں