44

پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا ای سی پی کو دینے کی تجویز دی، اسٹیٹ بینک

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے وضاحت دی ہے کہ انہوں نے تمام بینکوں کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو دینے کی تجویز دی تھی۔

گزشتہ روز ڈان اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں تحریک انصاف کے زیرِ استعمال 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا تھا، تاہم اس کی وضاحت دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ای سی پی نے گزشتہ سال جولائی میں الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت تحریک انصاف کے 2009 سے 2013 تک کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے رجوع کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے ای سی پی کو پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ جاری کرنے کی تردید کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ’اسٹیٹ بینک نے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری ختم کرتے ہوئے تمام بینکوں کو متعلقہ معلومات ای سی پی کو مقررہ مدت میں فراہم کرنے کی تجویز دی تھی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسٹیٹ بینک نہ ہی انفرادی اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا بیس سنبھالتا ہے اور نہ ہی اس سے متعلقہ معلومات یا ریکارڈ اس کے پاس ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی بینک صارفین کی معلومات مختلف ایجنسیوں کو قانون کے مطابق کیس ٹو کیس کی بنیاد پر فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تحریک انصاف کے 26 میں سے 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کی رپورٹ اسٹیٹ بینک نے ای سی پی کو دی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا غیر ملکی فنڈنگ کیس کی اسکروٹنی خفیہ رکھنے کا مطالبہ

اس معلومات سے آگاہ ذرائع نے اس ڈیٹا کی تصدیق کی جس کے مطابق پی ٹی آئی 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی اور اس ڈیٹا کو اسٹیٹ بینک کی تجویز پر بینکوں نے ای سی پی کو فراہم کیا۔

ڈان کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق ای سی پی کے ڈائریکٹر جنرل (قانون) جو تحریک انصاف کے غیر قانونی ذرائع سے فنڈ لینے کے الزام کی تحقیقات کرنے والی اسکروٹنی کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں، نے اسٹیٹ بینک کے گورنر کو 3 جولائی 2018 کو تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔

طلب کی گئی معلومات میں پی ٹی آئی کے 2009 سے 2013 کے دوران زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کی فہرست کے ساتھ تمام ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا، پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں بیرون ممالک سے ملنے والے فنڈز کی تفصیلات، بھیجنے والوں کی تفصیلات اور تمام اکاؤنٹس کی ہر مالی سال (2013-2009) کے ماہانہ بینک اسٹیٹمنٹ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘غیر ملکی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی تاخیری حربوں سے باز آئے’

اسی طرح اسٹیٹ بینک نے بھی 12 جولائی 2018 کو تمام بینکوں کے سربراہان/چیف ایگزیکٹوز کو ای سی پی کے خط کی کاپی کے ہمراہ خط لکھا تھا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے لکھے گئے خط میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو 16 جولائی 2018 سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی معلومات ای سی پی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے‘۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ’تحریک انصاف کا اکاؤنٹ آپ کے بینک میں نہ ہونے پر بھی کمیشن کو بتایا جائے گا‘۔

باوثوق ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی کے ملک بھر میں 26 بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں سے ای سی پی کو صرف 8 ظاہر کیے گئے تھے۔

ای سی پی کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات غیر متعلقہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات ای سی پی کو دی ہو یا بینکوں میں یہ ڈیٹا ان کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی کے پاس اختیار ہے کہ وہ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا فنڈنگ چھپانے والی کسی بھی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں