252

شعیہ سنی بھائی بھائی۔۔۔ایران طالبان کا نیا افغانستان

شعیہ سنی بھائی بھائی۔۔۔ایران طالبان کا نیا افغانستان
چین ،روس، ایران،طالبان،قطر ،شام ، سمیت کئی ممالک ایک پیچ پر
پاکستان ،امریکا، افغان داعش سعودی عرب ، یو ا ے ای، اور اشرف غنی کی قربت
سیاست میں اور خاص طور پر عالمی سیاسی دنیا میں دشمن دوست اور دوست دشمن ہوتے کتنا وقت لگتا ہے اندازہ لگانا مشکل نہیں، کبھی بھارت روس کے قریب تھا اور امریکا پاکستان کو اپنا اتحادی سمجھتا تھا اب امریکا بھارت کے نزدیک جبکہ پاکستان روس کے قریب ہوتا جا رہا ہے جب روس افغانستان پر چڑھ آیا اس وقت امریکا کو افغانستا ن کا غم کھائے جا رہا تھا اور جب امریکا نائن الیون کے نام پرافغانستا ن پر حملہ آور ہواتو روس کو افغانستان سے محبت یاد آ گئی۔ ایران عراق کے ساتھ طویل جنگ اور افغان طالبان ایران کے ساتھ شیر و شکر ہو جائیں کسی کو یقین نہیں تھا اس کے علاوہ دبھی دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں
سننے میں آیا ہے کہ ایک وقت تھا جب امریکا نے روس کے ساتھ لڑنے کے لئے جو میزائل اور اسلحہ دیا تھا وہ میزائل اور اسلحہ جب بن پھٹے عراق میں پکڑا گیا تو پتہ چلا کہ ان میزائلوں پر جو نمبر تھے وہ اسلحہ تو افغان مجاہدین کو دیا گیا تھا اور جب امریکا نے مجاہدین اور ان سے پوچھا تو پھر سب نے دیکھا کہ پنڈی میں اوجڑی کیمپ کا واقعہ پیش آیا اور اس اوجڑی کیمپ کی رپورٹ دینے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم محمد خا ن جونیجو جب پاکستان واپس آ رہے تھے تو انہیں جہاز میں ہی برطرف کر دیا گیا تھا پھر سب نے دیکھا کہ پھر بہاول پور میں سی ون تھرٹی میں امریکی سفیر سمیت ان تمام کرداروں جنہوں نے وہ اسلحہ ایران کو بیچا تھا کو ایک ہی جہاز میں بٹھا کر امریکا کے ساتھ غداری کی پاداش میںسزا دی گئی
اب ایک مرتبہ پھر افغانستان میں امریکا کے خلاف جو اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اس پر ایرانی مہریں اور سیریل نمبر جبکہ جو اسلحہ داعش طالبان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ان پر امریکی اسلحہ کی مہریں ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان اور شام میں امریکا داعش کی حمایت کر رہا ہے جبکہ افغان طالبان جن کو پاکستان کے نزدیک سمجھاجا تا تھا وہ ایران کے حمایتی نکلے ہیں کیونکہ طالبان نے ایران کے دشمن سعودی عرب میں افغان امن سے نہ صرف انکار کیا بلکہ پاکستا ن میں بھی امریکا سے مذاکرات کرنے سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کی بڑی وجہ یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان پاکستان سے ناراض ہیں کہ ان کے دو سابق وزیر مبینہ طور پر پاکستان میں قتل ہو گئے ہیں اور انہیں ان کی ڈیڈ باڈی بھی نہیں دی گئی طالبان ذرائع کہتے ہیں کہ ان وزیر وں کو امریکہ سے زبردستی مذاکرات کرنے پر مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس سے طالبان ایران کے اور زیادہ قریب ہو گئے ہیں اور پاکستان سے اتنے ہی قریب ہو گئے ہیں
ایک وقت میں طالبان کے حمایتی پاکستانی دیوبندی مکتبہ فکر جو طالبان کے زیادہ قریب تھے نے شعیوں کو کافر اور پاکستان میں سپاہ صحابہ اور دوسرے علمائے کرام کے قتل میں ایران کو براہ راست ملوث قرار دیا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ طالبان کی ایران کے ساتھ زیادہ قربت سے اس ملک میں پھر دیوبندی سنی اور شعیہ بھائی بھائی بن جائینگے اور خطہ کے تین ممالک طالبان کا افغانستان پاکستان اور ایران میں مذہبی رواداری کی ایک نئی مثال قائم ہو گئی جو کہ مسلکی اختلافات سے شروع ہوئی اور پھر ہزاروں جانوں کے ضیاع کے بعد پھر ایک دوسرے کے قریب ا رہے ہیں جسے امریکہ کے ساتھ دشمنی نے قریب کر دیا ہے کیونکہ ایرا ن بھی دنیا میں امریکا کے خلاف جبکہ طالبان بھی افغانستان میں امریکا
اور امریکی حمائت یافتہ داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خطہ میں طاقت کا توازن پھر روس ایران اور طالبان کے طرف جا رہا ہے اور اشرف غنی جو ایک عرصہ تک پاکستان کو اپنا دشمن سمجھ رہا تھا وہ بھارتی تسلط سے نکل کر پاکستان کے ساتھ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیئے ایک پلیٹ فارم پر آ رہے ہیں ، ایسے میں خطہ میں اور دنیا میں نئے اتحادی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ امریکا صرف افغانستان میں شکست نہیں ہوئی بلکہ اسے شام ،عراق ،یمن اور جہاں جہاں اس نے جنگ مسلط کی وہاں پر اسے شکست ہی ملی ہے چائے وہ ویتنام ہو کیوبا اور اس دور میں جہاں جہاں روس نے ساتھ دیا وہاں وہاں ایران کو کامیابی ملی جیسے شام ہو یا یمن افغانستان ہو یا قطریاکوئی اور ملک کل کے دوست اور اتحادی نئے بلاکس میں نظر آ رہے ہیں اب روس، چین، ایران، طالبان، قطر، ترکی خطے میں اتحادی بن رہے ہیں جبکہ اشرف غنی بھارت کی بجائے اقتدار کی طوالت کے لئے پاکستان کے نزدیک امریکا سعودی عرب اور یو اے ای ایک پلیٹ فارم پر آ رہے ہیں یورپ بھی امریکا کے خلاف اور ایران ،روس کے نزدیک ہو رہا ہے کیونکہ امریکی پابندیوں کو یورپ نے خاطر میں نہیں لایا، ایسے میں خطے کے ممالک کی خارجہ پالیسی کا امتحان ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں کیونکہ امریکا کا اقتدار آنے والے دنوں میں ڈوب رہا ہے اور امریکا مخالف اتحاد دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات جو پاکستان کے لیے ہی کہ اگلے سالوں میں بہت جلد ایران اور افغان طالبان کی قربت سے پاکستان میں شعیہ سنی بھائی بھائی بن رہے ہیں اور ایک عرصے کے دشمن ایک کنٹینر پر آتے نظر آ رہے ہیں ۔ ایران طالبان کی قربت کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے بہت نیک شگون ثابت ہونے جا رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں