24

پی ایس ایل سے بین الاقوامی اسٹارز بننے والے کھلاڑی

پی ایس ایل سے بین الاقوامی اسٹارز بننے والے کھلاڑی

دنیا بھر میں فٹ بال کے بعد شایدکرکٹ ہی وہ کھیل ہے جو عوام میں بہت زیادہ مقبول ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے مختلف ممالک اپنی کرکٹ لیگ کا انعقاد کرنے لگے ہے، جس سے انہیں نئے ٹیلنٹ کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا نام بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور اب یہ ایک برانڈ کی شکل اختیار کرگیا ہے اور اس میں شامل مختلف مقامی کھلاڑی اب بین الاقوامی اسٹارز بن گئے ہیں۔

ایس ہی کچھ نام یہاں آپ کو بتاتے چلیں جنہیں پی ایس ایل نے بین الاقوامی اسٹار بنا دیا۔

شاداب خان (اسلام آباد یونائیٹڈ)
2017 سے اسلام آباد یونائٹیڈ کا حصہ بننے والے ابھرتے ہوئے کھلاڑی شاداب خان اس سال پی ایس ایل 2019 کے لیے اپنی ٹیم کے نائب کپتان بن گئے ہیں۔

شاداب خان کی کہانی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ یہ لیگ نوجوان کرکٹرز کے لیے کارکردگی دکھانے اور آگے بڑھنے کا ایک بہتری موقع فراہم کرتی ہے۔

وہ سال 2017 میں اپنے پاکستان سپرلیگ کے پہلے ایڈیشن میں اسپن آل راؤنڈر کے طور پر شامل ہوئے تھے اور اسلام آباد یونائٹیڈ کی جانب سے انہیں ایمرجنگ کیٹیگری میں سپلمنٹری کھلاڑیوں میں سے ایک میں جگہ دی گئی تھی۔

تاہم شاداب خان نے اپنی گھومتی گیندوں، اوسط باؤلنگ اسپیلز اور تیز ترین فیلڈنگ کی بدولت اپنا لوہا منوایا اور اب تک وہ پی ایس ایل میں 6.57 کی اوسط سے 18 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ 125.96 کے اسٹرائیک ریٹ سے 131 رنز اسکور کیے ہیں۔

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کے بعد ہی فوری طور پر شاداب نے کیریبین میں تینوں فارمیٹ میں اپنا بین الاقوامی ڈیبیو کیا اور ٹی-ٹوئنٹی میں اپنی بہترین کارکردگی سے ہمیشہ میچ پر چھائے رہے۔

انہوں نے ٹی ٹوئنٹی میں 44 وکٹیں حاصل کی ہے، جس میں 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی ڈیبیو سیریز میں لی گئی 10 وکٹیں بھی شامل ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابھرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑی 18.58 کی اوسط سے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دوسرے بہترین باؤلر ہیں۔

حسن علی (پشاور زلمی)
پی ایس ایل کے 16-2015 سیزن کے بہترین اختتام کے بعد 2016 میں پاکستان سپرلیگ میں حسن علی کو پشاور زلمی نے منتخب کیا اور آج یہی ابھرتا ہوا کھلاڑی دنیا کرکٹ کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں سے ایک ہے۔

اگرچہ اپنے ڈیبیو سیزن میں حسن علی نے صرف 3 میچز ہی کھیلے لیکن گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑی نے اپنی بہترین کارکردگی سے سب کو متاثر کیا اور 3 رنز دے کر ایک وکٹ اور 13 رنز دے کر ایک وکٹ نے کوالیفائر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ایک رنز سے کامیابی دلانے میں مدد دی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 2019: ‘میچز سیکیورٹی منصوبے کے تحت ہوں تو یہ کامیاب ایونٹ ہوگا’

اپنی عمدہ کارکردگی کے بعد حسن علی 2016 میں آئرلینڈ اور برطانیہ کے دورے کے دوران قومی ٹیم کے ایک روزہ اسکوائڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے اور اسی سال وہ انگلیڈ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشل سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے کھلاڑی رہے۔

پی ایس ایل سے سامنے آنے والے حسن علی نے 2017 میں آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 14.69 کی اوسط سے 13 وکٹیں حاصل کرکے ایوںٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

حسن علی 9 ٹیسٹ، 44 ایک روزہ میچ اور 29 ٹی ٹوئٹنی میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور وہ پشاور زلمی کے 3 پلاٹینم کٹیگری کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

حسان خان (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز/لاہور قلندرز)
بائیں بازوں کے اسپنر حسان خان پی ایس ایل 2017 میں اس وقت جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے انہیں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا اور 18 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا ڈیبیو کیا۔

اپنے پہلے ٹورنامنٹ میں 25.33 کے اوسط سے انہوں نے 9 وکٹیں حاصل کیں اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر کو پی ایس ایل 2017 کے تاریخی فائنل میں پہنچانے میں اہم کردارادا کیا۔

اب تک اپنے 2 پی ایس ایل ٹورنمانٹ میں حسان خان 60.4 اوورز کرا چکے ہیں اور ان کی بہتر اوسط صرف 6.84 فیصد ہے۔

اگرچہ حسان خان اب تک بین الاقوامی کھلاڑی کا وہ مقام حاصل نہیں کرسکے لیکن وہ نیوزی لینڈ میں آئی سی سی انڈر 19 کے سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 2019: ڈیرن سیمی پشاور زلمی کے کپتان برقرار

اس ٹورنمانٹ میں نوجوان اسپنر نے 44 اوورز میں 26.85 کی اوسط سے 4.27 کے اکانمی ریٹ سے 7 وکٹیں حاصل کی تھی۔

حسان خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بعد لاہور قلندرز کا حصہ بن گئے جہاں انہوں نے اپنی انڈر 19 ٹیم کے کھلاڑی شاہین آفریدی کے ساتھ بہتری فرماننس دی۔

شاہین شاہ آفریدی (لاہور قلندرز)
پاکستان میں خیبرایجنسی سے تعلق رکھنے والے لیفٹ آرم فاسٹ باؤلر 2018 میں آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں ابھر کر سامنے آئے اور سلیکٹر کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہے اور پی ایس ایل کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔

پی ایس میں اپنے پہلے سیزن میں وہ لاہور قلندرز سے منسلک ہوگئے اور اپنے 7 میچز میں انہوں نے کئی وکٹیں حاصل کی لیکن اصل توجہ کا مرکز وہ ملتان سلطان کے خلاف بہترین کارکردگی سے بنے، جہاں انہوں نے اپنے پاورفل اسپیل میں صرف 4 رن دے کر 5 وکٹیں حاصل کی۔

کچھ ہفتوں بعد شاہین نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنا بین الاقوامی ڈیبیو کیا اور اب تک وہ پاکستان کے لیے 3 ٹیسٹ، 10 ایک روزہ میچز اور 9 وکٹیں حاصل کیں۔

عثمان شنواری (کراچی کنگز)
لیف آرم فاسٹ باؤلر عثمان شنواری نے پی ایس ایل کے آغاز سے 2 سال قبل پاکستان کے لیے ڈبیو کیا تھا لیکن وہ ہمیشہ ملک کے اس بہترین ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے شکرگزار رہیں گے جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔

پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں عثمان شنواری کراچی کنگز کے اصلی اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے لیکن لیگ اسپنر ابرار احمد کے زخمی ہونے پر انہیں شامل کیا گیا تھا۔

ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی بہتر رہی اور وہ پشاور زلمی کے خلاف 32 رنز دے کر 3 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد وہ سلیکٹرز کی نگاہوں میں واپس آگئے۔

ایک سال بعد 2018 میں ان کی کراچی کنگز میں کامیاب واپسی ہوئی اور انہوں نے 10 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں اور آخری سیزن میں کراچی کنگز کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے باؤلر بنے۔

اس کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا میں بگ بیش میں بھی وہ اپنی بہترین کارکردگی سے چھائے رہے اور انہوں نے 6.14 کے اکنامک ریٹ سے 8 وکٹیں حاصل کیں۔

عثمان شنورای پی ایس ایل 2019 میں کراچی کنگز کا حصہ ہیں اور وہ ڈائمنڈ کٹیگری کے 3 کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں