38

ورلڈ کپ کی تیاریوں میں دیگر ٹیموں سے آگے ہیں، آرتھر

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ قومی ٹیم کی ورلڈ کپ کی تیاریاں درست سمت میں گامزن نہیں اور ہم عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں کئی ٹیموں سے آگے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ دورہ جنوبی افریقہ میں ہم توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے، جنوبی افریقہ میں وکٹ بیٹنگ کے لیے مشکل ہوتی ہیں لیکن کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ مجموعی طور پر اچھی کرکٹ کھیلی۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم کو دورہ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے کلین سوئپ کے بعد ون ڈے سیریز میں 2-3 اور ٹی20 سیریز میں 1-2 سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

سرفراز احمد کی بیٹنگ پوزیشن میں مستقل تبدیلی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سرفراز نے اوپری نمبروں کے ساتھ ساتھ نیچے کھیلتے ہوئے بھی ہمارے لیے بہترین کارکردگی دکھائی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ ایک طویل دورے سے لوٹے ہیں اور فارم آنی جانی چیز ہے۔ جب ایک کھلاڑی فارم میں نہ ہو تو ہمیں اپنے اس کھلاڑی کو وکٹ پر بھیجنا ہوتا ہے جو فارم میں ہو۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ سرفراز وکٹ کیپر اور بلے باز ہیں جبکہ وکٹ کیپنگ بذات خود ایک مکمل کام ہے اور گزشتہ چند ماہ میں سرفراز کے اعدادوشمار بہترین ہیں۔ ان کی فارم نہیں گئی اور ساڑھے چار ماہ میں انہوں نے صرف 8 بار گیند ڈراپ کی جبکہ صرف ایک کیچ اور اسٹمپ نہیں کر سکے۔ ان کا بنیادی کام وکٹ کیپنگ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز کی بیٹنگ پر ہم انتھک محنت کر رہے ہیں لیکن میں سرفراز احمد کی بیٹنگ کو لے کر بالکل بھی پریشان نہیں ہوں اور میرے ان سے بہت خوشگوار تعلقات ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ جس دن انہوں نے رنز بنانا شروع کیے تو وہ ہمیں میچ جتا کر دیں گے۔

ہیڈ کوچ نے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی تیاری کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں ہم نے کچھ تجربات کیے ہیں جس میں کچھ کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی دکھائی اور کچھ ناکام رہے۔ ہمیں کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی قابلیت کو ثابت کر سکیں۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ہم اپنی بیٹنگ لائن میں زیادہ سے زیادہ لچک لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ہم کھلاڑیوں کو موقع نہیں دیں گے تو ہمیں ان کی صلاحیتوں کا پتہ نہیں چلے گا جس سے ہمیں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

’اگر ہم ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچتے ہیں اور ایک ایسے لڑکے کو کھیلنے بھیجتے ہیں جس کی صلاحیتوں کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے تو یہ سرفراز اور میری مینجمنٹ کی بہت بڑی غلطی ہو گی کہ ہم نے اس کھلاڑی کو پہلے سے دباؤ میں کھیلنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ دباؤ میں کھیلنا ہی سب سے اہم ہے۔ جب میچ داؤ پر لگا ہو، 20ہزار لوگ اسٹیڈیم میں موجود ہوں اور ٹیلی ویژن پر بڑی عوام آپ کو دیکھ رہی ہو تو آپ محض ٹریننگ کے ذریعے ایسا دباؤ پیدا نہیں کر سکتے۔ ہم اس کے لیے راہ نکالنا ہو گی اور ہم یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

ہیڈ کوچ نے واضح کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ سرفراز کسی بھی نمبر پر کارکردگی دکھا سکتے ہیں لیکن ہم دوسرے کھلاڑیوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں دکھانے والی کارکردگی کو ٹیسٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں دکھانے سے قاصر ہیں اور ہمیں اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کی کارکردگی اور میچز کی تعداد میں بھارتی ٹیم سے موازنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے دنیا کی دیگر ٹیموں کے مقابلوں میں گزشتہ ساڑھے چار ماہ میں سب سے زیادہ کرکٹ کھیلی ہے۔ جہاں تک بھارتی ٹیم سے موازنے کی بات ہے تو بھارت کے پاس بڑی تعداد میں کھلاڑی میسر ہیں جو اپنی ٹیم کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور وہ اپنے کھلاڑیوں کو روٹیٹ کرتے رہتے ہیں لیکن ہم اپنے کھلاڑیوں کو زیادہ روٹیٹ نہیں کر پاتے کیونکہ ہمارے کھلاڑی ابھی جوان ہیں جنہیں ہم دنیا کی مختلف کنڈیشنز میں کھیلنے کا فن سکھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ورلڈ کپ کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ہم درست سمت میں گامزن ہیں اور مختلف ٹیموں کے کوچز سے بات کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ہم تیاریوں کے سلسلے میں کئی ٹیموں سے آگے ہیں۔

ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کی کوچنگ جاری رکھنے کے حوالے سے سوال پر آرتھر نے کہا کہ میں کوچنگ جاری رکھنا چاہوں گا، ابھی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ بہت کام کرنا باقی ہے جسے میں مکمل کرنا چاہوں گا لیکن اس فیصلے کا اختیار پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہے۔

محمد عامر کے بارے میں مکی آرتھر نے کہا کہ عامر بہت باصلاحیت باؤلر ہیں اور ہمیں میچز جتانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ جب بھی گیند سوئنگ ہوتی ہے تو ان سے بہتر کوئی اور باؤلر نہیں۔ جب بھی میچ پھنسا ہوتا ہے تو وہ خود باؤلنگ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک اچھے باؤلر کی نشانی ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ کے فرائض انجام دینے والے آرتھر نے مزید کہا کہ پاکستان سپر لیگ ایک بہترین ایونٹ ہے جس سے پاکستان کرکٹ کو اچھے کھلاڑی مل رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں