12

‘نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں’

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پرائیویٹ اسکول فیس کیس کے عدالتی فیصلے پر چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں تضحیک آمیز زبان استعمال کرنے پر 2 نجی اسکولوں سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دو نجی اسکولوں، ہیڈ اسٹارٹ اور ایکول دی لومیئر، سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جرأت کیسے ہوئی کہ سپریم کورٹ کے اسکول فیس کے فیصلے کو ڈریکونیئن فیصلہ کہا، جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ والدین کو لکھے گئے آپ کے خطوط توہین آمیز ہیں، آپ کس قسم کی باتیں لکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیس کم کرنے کے عدالتی حکم کے بعد سہولیات کم کرنے والے اسکولوں کی رپورٹ طلب

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کے اسکول بند کر دیتے ہیں، ہم آپ کے اسکولوں کو نیشنالائز بھی کر سکتے ہیں، سرکار کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے اسکولوں کا انتظام سنبھال لے۔

اس پر اسکول کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ‘ہم عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا’۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے آپ تحریری معافی نامہ جمع کرا دیں ہم دیکھ لیں گے، آپ کے پاس کالا دھن ہے یا سفید ہم آڈٹ کرا لیتے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے اسکول پیسے بنانے کی کوئی صنعت نہیں۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے 2 نجی اسکولوں سے توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر تحریری جواب طلب کر لیا۔

علاوہ ازیں جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں، نجی اسکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکولوں نے عدالتی فیصلے پر چیف جسٹس کو خط لکھا، فیصلے میں تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی، جس پر نجی اسکول کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پر عمل کرکے فیس کم کردی ہے۔

جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کس قسم کی باتیں کی گئیں؟ نجی اسکولوں سے کیوں نہ نمٹ لیں، حکومت کو نجی اسکول تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ نجی اسکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں، انہوں نے لوگوں کی زندگی میں زہر گھول دیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکول والے بچوں کے والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کو لے کر سیر کرانے کہاں جاتے ہیں؟ یہ پوچھنے والے پرائیویٹ اسکول والے کون ہوتے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں تضحیک آمیز زبان استعمال کرنے پر ہیڈ اسٹارٹ اور ایکول دی لومیئر اسکولز سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں